العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
中文

首页 / 圣训图书馆 / 《提尔米兹圣训全集》 / 第 49: Chapters on Virtues / 圣训 3766

《提尔米兹圣训全集》

圣训 3766 — 第 49: Chapters on Virtues

كتاب المناقب

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْحَاقَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ إِنْ كُنْتُ لأَسْأَلُ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ الآيَاتِ مِنَ الْقُرْآنِ أَنَا أَعْلَمُ بِهَا مِنْهُ مَا أَسْأَلُهُ إِلاَّ لِيُطْعِمَنِي شَيْئًا فَكُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَمْ يُجِبْنِي حَتَّى يَذْهَبَ بِي إِلَى مَنْزِلِهِ فَيَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ يَا أَسْمَاءُ أَطْعِمِينَا شَيْئًا ‏.‏ فَإِذَا أَطْعَمَتْنَا أَجَابَنِي وَكَانَ جَعْفَرٌ يُحِبُّ الْمَسَاكِينَ وَيَجْلِسُ إِلَيْهِمْ وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُحَدِّثُونَهُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَكْنِيهِ بِأَبِي الْمَسَاكِينِ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ‏.‏ وَأَبُو إِسْحَاقَ الْمَخْزُومِيُّ هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ الْمَدَنِيُّ وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَلَهُ غَرَائِبُ ‏.‏
Very Daif · Ahmad Muhammad ShakirVery Daif · Al-AlbaniDaif · Zubair Ali Zai

《提尔米兹圣训全集》 › 第 49: Chapters on Virtues › 圣训 3766

英文翻译
Narrated Abu Hurairah:"I used to ask a man from among the Companions of the Prophet (ﷺ) concerning Ayat of the Qur'an which I would be more knowledgeable about than him, so that he might inform me something (more about them). So when I would ask Ja'far bin Abi Talib, he would not answer me until he would go with me to his place and say to his wife: 'O Asma, give us some food.' Once she had given us some food, he would answer me. And Ja'far used to love the poor and sit with them, and speak with them, and they would speak with him, so the Messenger of Allah (ﷺ) used to call him Abu Al-Masakin (the Father of the Poor)
乌尔都语翻译
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں قرآن کی آیتوں کے سلسلہ میں صحابہ سے پوچھا کرتا تھا، چاہے میں اس کے بارے ان سے زیادہ واقف ہوتا ایسا اس لیے کرتا تاکہ وہ مجھے کچھ کھلائیں، چنانچہ جب میں جعفر بن ابی طالب سے پوچھتا تو وہ مجھے جواب اس وقت تک نہیں دیتے جب تک مجھے اپنے گھر نہ لے جاتے اور اپنی بیوی سے یہ نہ کہتے کہ اسماء ہمیں کچھ کھلاؤ، پھر جب وہ ہمیں کھلا دیتیں تب وہ مجھے جواب دیتے، جعفر رضی الله عنہ مسکینوں سے بہت محبت کرتے تھے، ان میں جا کر بیٹھتے تھے ان سے باتیں کرتے تھے، اور ان کی باتیں سنتے تھے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ابوالمساکین کہا کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ابواسحاق مخزومی کا نام ابراہیم بن فضل مدنی ہے اور بعض محدثین نے ان کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور ان سے غرائب حدیثیں مروی ہیں۔
‹ 上一条161 / 351下一条 ›

阅读整本书