العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
中文

首页 / 圣训图书馆 / 《提尔米兹圣训全集》 / 第 49: Chapters on Virtues / 圣训 3758

《提尔米兹圣训全集》

圣训 3758 — 第 49: Chapters on Virtues

كتاب المناقب

Daif · Ahmad Muhammad ShakirDaif · Al-Albani

《提尔米兹圣训全集》 › 第 49: Chapters on Virtues › 圣训 3758

乌尔都语翻译
عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے بیان کیا کہ عباس بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غصہ کی حالت میں آئے، میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے پوچھا: ”تم غصہ کیوں ہو؟“ وہ بولے: اللہ کے رسول! قریش کو ہم سے کیا ( دشمنی ) ہے کہ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو خوش روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اور طرح سے ملتے ہیں، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا، پھر آپ نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ کرے“، پھر آپ نے فرمایا: ”اے لوگو! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی تو اس نے مجھے اذیت پہنچائی کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ۱؎ ہوتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
‹ 上一条153 / 351下一条 ›

阅读整本书