العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
中文

首页 / 圣训图书馆 / 《提尔米兹圣训全集》 / 第 48: Chapters on Supplication / 圣训 3420

《提尔米兹圣训全集》

圣训 3420 — 第 48: Chapters on Supplication

كتاب الدعوات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَغَيْرُ، وَاحِدٍ، قَالُوا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رضى الله عنها بِأَىِّ شَيْءٍ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَفْتَتِحُ صَلاَتَهُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلاَتَهُ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَعَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
Sahih · Ahmad Muhammad ShakirSahih · Al-AlbaniSahih Muslim · Zubair Ali Zai

《提尔米兹圣训全集》 › 第 48: Chapters on Supplication › 圣训 3420

英文翻译
Abu Salamah said:“I asked Aishah [may Allah be pleased with her]: ‘With what did the Prophet used to open his Salat when he stood up in the night?’ She said: ‘When he stood up in the night, he would open his Salat by saying: “O Allah, Lord of Jibra’il, Mika’il, and Israfil; Originator of the heavens and the earth, [and] Knower of the hidden and the seen; You judge between Your slaves concerning that which they used to differ, guide me through that which there has been difference concerning the truth, verily, You are upon a straight path (Allāhumma rabba Jibrīla wa Mīkā'ila wa Isrāfīl, fāṭira-samāwāti wal-arḍi [wa] `ālimal-ghaibi wash-shahādati anta taḥkumu baina `ibādika fīmā kānū fīhi yakhtalifūn, ihdini limakhtulifa fīhi minal-ḥaqqi bi'idhnika innaka tahdī man tashā'u ilā ṣirātin mustaqīm).”
乌尔都语翻译
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: رات میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو اپنی نماز کے شروع میں کیا پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب رات کو کھڑے ہوتے، نماز شروع کرتے وقت یہ دعا پڑھتے: «اللهم رب جبريل وميكائيل وإسرافيل فاطر السموات والأرض عالم الغيب والشهادة أنت تحكم بين عبادك فيما كانوا فيه يختلفون اهدني لما اختلف فيه من الحق بإذنك إنك تهدي من تشاء إلى صراط مستقيم» ”اے اللہ! جبرائیل، میکائیل و اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، چھپے اور کھلے کے جاننے والے، اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافات کا فیصلہ کرنے والا ہے، اے اللہ! جس چیز میں بھی اختلاف ہوا ہے اس میں حق کو اپنانے، حق کو قبول کرنے کی اپنے اذن و حکم سے مجھے ہدایت فرما، ( توفیق دے ) کیونکہ تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھی راہ پر چلاتا ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
‹ 上一条51 / 244下一条 ›

阅读整本书