العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
中文

首页 / 圣训图书馆 / 《提尔米兹圣训全集》 / 第 23: The Book on Jihad / 圣训 1716

《提尔米兹圣训全集》

圣训 1716 — 第 23: The Book on Jihad

كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَرِيَّةٍ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَاخْتَبَيْنَا بِهَا وَقُلْنَا هَلَكْنَا ثُمَّ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَحْنُ الْفَرَّارُونَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ وَأَنَا فِئَتُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ‏.‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ فَحَاصَ النَّاسُ حَيْصَةً يَعْنِي أَنَّهُمْ فَرُّوا مِنَ الْقِتَالِ ‏.‏ وَمَعْنَى قَوْلِهِ ‏"‏ بَلْ أَنْتُمُ الْعَكَّارُونَ ‏"‏ ‏.‏ وَالْعَكَّارُ الَّذِي يَفِرُّ إِلَى إِمَامِهِ لِيَنْصُرَهُ لَيْسَ يُرِيدُ الْفِرَارَ مِنَ الزَّحْفِ ‏.‏
Daif · Ahmad Muhammad ShakirDaif · Al-AlbaniDaif · Zubair Ali Zai

《提尔米兹圣训全集》 › 第 23: The Book on Jihad › 圣训 1716

英文翻译
Narrated Ibn 'Umar: "The Messenger of Allah sent us on a military expedition, and the people turned to escape. So we arrived in Al-Madinah and concealed ourselves in it and we said: 'We are ruined.' Then we went to the Messenger of Allah (ﷺ) and we said: 'O Messenger of Allah! We are those who fled.' He said: 'Rather you are Al-'Akkarun (those who are regrouping) and I am your reinforcement. [Abu 'Eisa said:] This Hadith is Hasan Gharib. We do not know of it except as a narration of Yazid bin Abi Ziyad. And the meaning of his saying: "The people turned to escape" is that they fled from the fighting. As for the meaning of his saying: "Rather you are Al-'Akkarun," the 'Akkar is the one who flees to his Imam in order that he may help him, it does not mean fleeing from the advancing army
乌尔都语翻译
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو ایک سریہ میں روانہ کیا، ( پھر ہم ) لوگ لڑائی سے بھاگ کھڑے ہوئے، مدینہ آئے تو شرم کی وجہ سے چھپ گئے اور ہم نے کہا: ہلاک ہو گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم بھگوڑے ہیں، آپ نے فرمایا: ”بلکہ تم لوگ پیچھے ہٹ کر حملہ کرنے والے ہو اور میں تمہارا پشت پناہ ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ہم اسے صرف یزید بن ابی زیاد کی روایت سے جانتے ہیں، ۲- «فحاص الناس حيصة» کا معنی یہ ہے کہ لوگ لڑائی سے فرار ہو گئے، ۳- اور «بل أنتم العكارون» اس کو کہتے ہیں: جو فرار ہو کر اپنے امام ( کمانڈر ) کے پاس آ جائے تاکہ وہ اس کی مدد کرے نہ کہ لڑائی سے فرار ہونے کا ارادہ رکھتا ہو۔
‹ 上一条47 / 50下一条 ›

阅读整本书