首页 / 圣训图书馆 / 《提尔米兹圣训全集》 / 第 20: The Book on Vows and Oaths / 圣训 1539
《提尔米兹圣训全集》
圣训 1539 — 第 20: The Book on Vows and Oaths
كتاب النذور والأيمان
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ أَنْ أَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَ " أَوْفِ بِنَذْرِكَ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا الْحَدِيثِ قَالُوا إِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ وَعَلَيْهِ نَذْرُ طَاعَةٍ فَلْيَفِ بِهِ . وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ لاَ اعْتِكَافَ إِلاَّ بِصَوْمٍ . وَقَالَ آخَرُونَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لَيْسَ عَلَى الْمُعْتَكِفِ صَوْمٌ إِلاَّ أَنْ يُوجِبَ عَلَى نَفْسِهِ صَوْمًا . وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ عُمَرَ أَنَّهُ نَذَرَ أَنْ يَعْتَكِفَ لَيْلَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِالْوَفَاءِ . وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَاقَ .
Sahih · Ahmad Muhammad ShakirSahih · Al-AlbaniHasan Sahih · Bashar Awad MaaroufSahih - Agreed Upon · Zubair Ali Zai
《提尔米兹圣训全集》 › 第 20: The Book on Vows and Oaths › 圣训 1539
英文翻译
Narrated 'Umar:"I said:'O Messenger of Allah! I had vowed to perform I'tikaf in Al-Masjid Al-Haram for a night during the era of Jahiliyyah.' He said: 'Fulfill your vow
乌尔都语翻译
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ ایک رات مسجد الحرام میں اعتکاف کروں گا، ( تو اس کا حکم بتائیں؟ ) آپ نے فرمایا: ”اپنی نذر پوری کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- بعض اہل علم کا مسلک اسی حدیث کے موافق ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب کوئی اسلام لائے، اور اس کے اوپر جاہلیت کی نذر طاعت واجب ہو تو اسے پوری کرے، ۴- بعض اہل علم صحابہ اور دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ بغیر روزے کے اعتکاف نہیں ہے اور دوسرے اہل علم کہتے ہیں کہ معتکف پر روزہ واجب نہیں ہے الا یہ کہ وہ خود اپنے اوپر ( نذر مانتے وقت ) روزہ واجب کر لے، ان لوگوں نے عمر رضی الله عنہ کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو نذر پوری کرنے کا حکم دیا ( اور روزے کا کوئی ذکر نہیں کیا ) ، احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔