العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
中文

首页 / 圣训图书馆 / 《提尔米兹圣训全集》 / 第 11: The Book on Marriage / 圣训 1100

《提尔米兹圣训全集》

圣训 1100 — 第 11: The Book on Marriage

كتاب النكاح

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ لاَ بَلْ ثَيِّبًا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ هَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَاتَ وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ أَوْ تِسْعًا فَجِئْتُ بِمَنْ يَقُومُ عَلَيْهِنَّ ‏.‏ قَالَ فَدَعَا لِي ‏.‏ قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
Sahih · Ahmad Muhammad ShakirSahih · Al-AlbaniHasan Sahih · Bashar Awad MaaroufSahih - Agreed Upon · Zubair Ali Zai

《提尔米兹圣训全集》 › 第 11: The Book on Marriage › 圣训 1100

英文翻译
Jabir bin Abdullah narrated:"I married a woman and went to the Prophet, he said: 'O Jabir! Have you married?' I said: 'Yes.' He said: 'A virgin or a matron?' I said: 'A matron.' He said: 'Why didn't you marry a young girl, so that you may play with her and she with you?' I said: 'O Messenger of Allah! Abdullah (his father) died and left behind seven - or nine - daughter, so I have brought someone who can look after them.'" (He said:) "So he supplicated for me
乌尔都语翻译
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے پوچھا: ”جابر! کیا تم نے شادی کی ہے؟“ میں نے کہا: جی ہاں کی ہے، آپ نے فرمایا: ”کسی کنواری سے یا بیوہ سے؟“ میں نے کہا: نہیں، غیر کنواری سے۔ آپ نے فرمایا: ”کسی ( کنواری ) لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی، تو اس سے کھیلتا اور وہ تجھ سے کھیلتی؟“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ( میرے والد ) عبداللہ کا انتقال ہو گیا ہے، اور انہوں نے سات یا نو لڑکیاں چھوڑی ہیں، میں ایسی عورت کو بیاہ کر لایا ہوں جو ان کی دیکھ بھال کر سکے۔ چنانچہ آپ نے میرے لیے دعا فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب اور کعب بن عجرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
‹ 上一条21 / 67下一条 ›

阅读整本书