العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
中文

首页 / 圣训图书馆 / 《穆斯林圣训实录》 / 第 15: The Book of Pilgrimage / 圣训 2935

《穆斯林圣训实录》

圣训 2935 — 第 15: The Book of Pilgrimage

كتاب الحج

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ، قَالَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ رضى الله عنها يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَرْجِعُ النَّاسُ بِأَجْرَيْنِ وَأَرْجِعُ بِأَجْرٍ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَنْطَلِقَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ ‏.‏ قَالَتْ فَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ - قَالَتْ - فَجَعَلْتُ أَرْفَعُ خِمَارِي أَحْسُرُهُ عَنْ عُنُقِي فَيَضْرِبُ رِجْلِي بِعِلَّةِ الرَّاحِلَةِ ‏.‏ قُلْتُ لَهُ وَهَلْ تَرَى مِنْ أَحَدٍ قَالَتْ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ بِالْحَصْبَةِ ‏.‏

《穆斯林圣训实录》 › 第 15: The Book of Pilgrimage › 圣训 2935

英文翻译
Safiyya bint Shaiba reported that 'A'isha (Allah be pleased with her) said:Messenger of Allah, the people are returning with two rewards whereas I am returning with one reward. Thereupon he commanded 'Abd al-Rahman b. Abu Bakr to take her to al-Tan'im. She ('A'isha) said: He seated me behind him on his camel. She (further) stated: I lifted my head covering and took it off from my neck. He struck my foot as if he was striking the camel. I said to him: Do you find anyone bere? She (further) said: I entered into the state of Ihram for 'Umra till we reached the Messenger of Allah (ﷺ) and he was at Hasba
乌尔都语翻译
صفیہ بنت شیبہ نے بیان کیا ، کہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لو گ تو وہ ( عملوںکا ) ثواب لے کر لو ٹیں گے اور میں ( صرف ) ایک ( عمل کا ) ثواب لے کر لوٹوں ؟ تو ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بات سن کر ) آپ نے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انھیں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ) تنعیم تک لے جائے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : چنانچہ عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اونٹ پر مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا ( راستے میں ) اپنی اوڑھنی کو اپنی گردن سے سر کا نے کے لیے ( بار بار ) اسے اوپر اٹھا تی تو ( عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سواری کو مارنے کے بہانے میرے پاؤں پر مارتے ( کہااوڑھنی کیوں اٹھا رہی ہیں؟ ) میں ان سے کہتی : آپ یہاں کسی ( اجنبی ) کو دیکھ رہے ہیں ؟ ( جو مجھے ایسا کرتا ہوا دیکھ لے گا ) فرماتی ہیں : میں نے ( وہاں سے ) عمرے کا احرا م باندھ کر ) تلبیہ پکارا ( اور عمرہ کیا ) پھر ہم ( واپس آئے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ۔ آپ ( اس وقت ) مقام حصبہ پر تھے ۔
‹ 上一条142 / 583下一条 ›

阅读整本书