العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
中文

首页 / 圣训图书馆 / 《伊本·马哲圣训集》 / 第 8: The Chapters Regarding Zakat / 圣训 1805

《伊本·马哲圣训集》

圣训 1805 — 第 8: The Chapters Regarding Zakat

كتاب الزكاة

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ أَقْرَأَنِي سَالِمٌ كِتَابًا كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي الصَّدَقَاتِ قَبْلَ أَنْ يَتَوَفَّاهُ اللَّهُ فَوَجَدْتُ فِيهِ ‏"‏ فِي أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ثَلاَثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلاَثِمِائَةٍ فَإِذَا كَثُرَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ ‏"‏ ‏.‏ وَوَجَدْتُ فِيهِ ‏"‏ لاَ يُجْمَعُ بَيْنَ مَتَفَرِّقٍ وَلاَ يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ ‏"‏ ‏.‏ وَوَجَدْتُ فِيهِ ‏"‏ لاَ يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ تَيْسٌ وَلاَ هَرِمَةٌ وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ ‏"‏ ‏.‏
Sahih · Al-AlbaniSahih · Muhammad Fouad Abd al-BaqiHasan · Zubair Ali Zai

《伊本·马哲圣训集》 › 第 8: The Chapters Regarding Zakat › 圣训 1805

英文翻译
It was narrated from Ibn Shihab, from Salim bin Abdullah, from his father, from the Messenger of Allah:Salim said: “My father read to me a letter that the Messenger of Allah (ﷺ) had written about Sadaqat before Allah caused him to pass away. I read in it: 'For forty sheep, one sheep, up to one hundred and twenty. If there is more than that - even one - then two sheep, up to two hundred, If there is one more than that - even one = then three sheep, up to three hundred. If there are many sheep, then for each hundred, one sheep.' And I read in it: 'Separate flocks should not be combined, and a combined flock should not be separated.' And I read in it: 'And a male goat should not be taken for Sadaqah, nor a decrepit nor defective animal.' ”
乌尔都语翻译
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے سالم نے ایک تحریر پڑھائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کے سلسلے میں اپنی وفات سے پہلے لکھوائی تھی، اس تحریر میں میں نے لکھا پایا: چالیس سے ایک سو بیس بکریوں تک ایک بکری زکاۃ ہے، اگر ۱۲۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں دو سو تک دو بکریاں ہیں، اور اگر ۲۰۰ سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں ۳۰۰ تک تین بکریاں ہیں، اور اگر اس سے بھی زیادہ ہو تو ہر سو میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور میں نے اس میں یہ بھی پایا: متفرق مال اکٹھا نہ کیا جائے، اور اکٹھا مال متفرق نہ کیا جائے ، اور اس میں یہ بھی پایا: زکاۃ میں جفتی کے لیے مخصوص بکرا، بوڑھا اور عیب دار جانور نہ لیا جائے ۔
‹ 上一条23 / 62下一条 ›

阅读整本书