العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
中文

首页 / 圣训图书馆 / 《艾布·达乌德圣训集》 / 第 15: Jihad (Kitab Al-Jihad) / 圣训 2692

《艾布·达乌德圣训集》

圣训 2692 — 第 15: Jihad (Kitab Al-Jihad)

كتاب الجهاد

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ بَعَثَتْ زَيْنَبُ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بِمَالٍ وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلاَدَةٍ لَهَا كَانَتْ عِنْدَ خَدِيجَةَ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ ‏.‏ قَالَتْ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً وَقَالَ ‏"‏ إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَعَمْ ‏.‏ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَخَذَ عَلَيْهِ أَوْ وَعَدَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَ زَيْنَبَ إِلَيْهِ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَرَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ ‏"‏ كُونَا بِبَطْنِ يَأْجِجَ حَتَّى تَمُرَّ بِكُمَا زَيْنَبُ فَتَصْحَبَاهَا حَتَّى تَأْتِيَا بِهَا ‏"‏ ‏.‏
Hasan · Al-AlbaniHasan · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidHasan · Shuaib Al ArnautHasan · Zubair Ali Zai

《艾布·达乌德圣训集》 › 第 15: Jihad (Kitab Al-Jihad) › 圣训 2692

英文翻译
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: When the people of Mecca sent about ransoming their prisoners Zaynab sent some property to ransom Abul'As, sending among it a necklace of hers which Khadijah had had, and (which she) had given to her when she married Abul'As. When the Messenger of Allah (ﷺ) saw it, he felt great tenderness about it and said: If you consider that you should free her prisoner for her and return to her what belongs to her, (it will be well). They said: Yes. The Messenger of Allah (ﷺ) made an agreement with him that he should let Zaynab come to him, and the Messenger of Allah (ﷺ) sent Zayd ibn Harithah and a man of the Ansar (the Helpers) and said: Wait in the valley of Yajij till Zaynab passes you, then you should accompany her and bring her back
乌尔都语翻译
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب اہل مکہ نے اپنے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے تو اس وقت زینب رضی اللہ عنہا نے ابوالعاص رضی اللہ عنہ ۱؎ کے فدیہ میں کچھ مال بھیجا اور اس مال میں اپنا ایک ہار بھیجا جو خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا، انہوں نے یہ ہار زینب کو ابوالعاص سے نکاح کے موقع پر رخصتی کے وقت دیا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ہار کو دیکھا تو آپ پر سخت رقت طاری ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم مناسب سمجھو تو ان کی خاطر و دلداری میں ان کا قیدی چھوڑ دو، اور ان کا مال انہیں لوٹا دو ، لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چھوڑتے وقت یہ عہد لے لیا کہ وہ زینب رضی اللہ عنہا کو میرے پاس آنے سے نہ روکیں گے، پھر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ اور انصار میں سے ایک شخص کو بھیجا، اور فرمایا: تم دونوں بطن یأجج میں رہنا یہاں تک کہ زینب تم دونوں کے پاس سے گزریں تو ان کو ساتھ لے کر آنا ۲؎ ۔
‹ 上一条216 / 311下一条 ›

阅读整本书