العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
中文

首页 / 圣训图书馆 / 《艾布·达乌德圣训集》 / 第 11: The Rites of Hajj (Kitab Al-Manasik Wa'l-Hajj) / 圣训 1886

《艾布·达乌德圣训集》

圣训 1886 — 第 11: The Rites of Hajj (Kitab Al-Manasik Wa'l-Hajj)

كتاب المناسك والحج

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّهُ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ وَقَدْ وَهَنَتْهُمْ حُمَّى يَثْرِبَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّهُ يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ قَدْ وَهَنَتْهُمُ الْحُمَّى وَلَقُوا مِنْهَا شَرًّا فَأَطْلَعَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ نَبِيَّهُ صلى الله عليه وسلم عَلَى مَا قَالُوهُ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ الثَّلاَثَةَ وَأَنْ يَمْشُوا بَيْنَ الرُّكْنَيْنِ فَلَمَّا رَأَوْهُمْ رَمَلُوا قَالُوا هَؤُلاَءِ الَّذِينَ ذَكَرْتُمْ أَنَّ الْحُمَّى قَدْ وَهَنَتْهُمْ هَؤُلاَءِ أَجْلَدُ مِنَّا ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَلَمْ يَأْمُرْهُمْ أَنْ يَرْمُلُوا الأَشْوَاطَ إِلاَّ إِبْقَاءً عَلَيْهِمْ ‏.‏
Sahih · Al-AlbaniSahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih Bukhari (1602) Sahih Muslim (1266) · Zubair Ali Zai

《艾布·达乌德圣训集》 › 第 11: The Rites of Hajj (Kitab Al-Manasik Wa'l-Hajj) › 圣训 1886

英文翻译
Ibn ‘Abbas said The Apostle of Allaah(ﷺ) came to Makkah while the fever of Yathrib (Medina) had weakened them. Thereupon the disbelievers said “The people whom the fever has weakened and who suffer misery at Medina are coming to you.” Allaah, the exalted, informed the Prophet (ﷺ) of what they had said. He, therefore, ordered them to perform ramal (walk proudly with swift pace) in first three circuits and walk ordinarily between the two corners (Yamani Corner and the Black Stone). When they saw them the believers walking proudly, they said” These are the people about whom you mentioned that the fever had weakened them, but they are more vigorous than us.” Ibn ‘Abbas said “He did not order them to walk proudly in all circuits (of the circumambulation) out of mercy upon them.”
乌尔都语翻译
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے اور لوگوں کو مدینہ کے بخار نے کمزور کر دیا تھا، تو مشرکین نے کہا: تمہارے پاس وہ لوگ آ رہے ہیں جنہیں بخار نے ضعیف بنا دیا ہے، اور انہیں بڑی تباہی اٹھانی پڑی ہے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس گفتگو سے مطلع کر دیا، تو آپ نے حکم دیا کہ لوگ ( طواف کعبہ کے ) پہلے تین پھیروں میں رمل کریں اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان عام چال چلیں، تو جب مشرکین نے انہیں رمل کرتے دیکھا تو کہنے لگے: یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق تم لوگوں نے یہ کہا تھا کہ انہیں بخار نے کمزور کر دیا ہے، یہ لوگ تو ہم لوگوں سے زیادہ تندرست ہیں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تمام پھیروں میں رمل نہ کرنے کا حکم صرف ان پر نرمی اور شفقت کی وجہ سے دیا تھا ۱؎۔
‹ 上一条166 / 325下一条 ›

阅读整本书