الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن ابن ماجه / المقدمة (كتاب السنة) / الحديث 91
سنن ابن ماجه
الحديث 91 — المقدمة (كتاب السنة)
الكتاب 0 · The Book of the Sunnah
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَفَّافُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَمَلُ فِيمَا جَفَّ بِهِ الْقَلَمُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ أَوْ فِي أَمْرٍ مُسْتَقْبَلٍ قَالَ " بَلْ فِيمَا جَفَّ بِهِ الْقَلَمُ وَجَرَتْ بِهِ الْمَقَادِيرُ وَكُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ " .
صحيح · Al-Albaniصحيح · Muhammad Fouad Abd al-Baqiصحيح · Zubair Ali Zai
سنن ابن ماجه › المقدمة (كتاب السنة) › الحديث 91
الترجمة الإنجليزية
It was narrated that Suraqah bin Ju'shum said:"I said: 'O Messenger of Allah (ﷺ), is one's deed in that which has already dried of the Pen and what has passed of the Divine Decree, or is it in the future?' He said: 'No, it is in that which he already dried of the Pen and what has passed of the Divine Decree, and each person is facilitated for what he has been created
الترجمة الأردية
سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ اعمال جو انسان سے صادر ہوتے ہیں آیا اس تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے، اور جو جاری ہو چکی ہے؟ یا ایسے امر کے مطابق ہوتے ہیں جو آگے ہونے والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسی تقدیر کے مطابق ہوتے ہیں جس کو قلم لکھ کر خشک ہو چکا ہے، اور جو جاری ہو چکی ہے، اور پھر ایک شخص کے لیے اس کی تقدیر کے مطابق وہی کام آسان کر دیا جاتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔