Accueil / Bibliothèque du Hadith / Sahih al-Bukhari / Livre 68: Divorce / Hadith 5284
Sahih al-Bukhari
Hadith 5284 — Livre 68: Divorce
كتاب الطلاق
Rapporté par Al-Aswad : Aisha voulait acheter Barira, mais ses maîtres ont posé comme condition que son wala leur revienne. Aisha en a parlé au Prophète (ﷺ) qui lui a dit : « Achète-la et affranchis-la, car le wala revient à celui qui affranchit. » Un jour, on a apporté de la viande au Prophète (ﷺ) et on lui a dit : « Cette viande a été donnée en aumône à Barira. » Le Prophète (ﷺ) a dit : « C’est une aumône pour Barira et un cadeau pour nous. » Rapporté par Adam : Shu`ba a raconté le même hadith et a ajouté : Barira a eu le choix concernant son mari
Sahih al-Bukhari › Livre 68: Divorce › Hadith 5284
Texte arabe original
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ، بَرِيرَةَ، فَأَبَى مَوَالِيهَا إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطُوا الْوَلاَءَ، فَذَكَرَتْ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". وَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِلَحْمٍ فَقِيلَ إِنَّ هَذَا مَا تُصُدِّقَ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ، وَلَنَا هَدِيَّةٌ ". حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَزَادَ فَخُيِّرَتْ مِنْ زَوْجِهَا.
Traduction anglaise
Narrated Al-Aswad:Aisha intended to buy Barira, but her masters stipulated that her wala wound be for them. Aisha mentioned that to the Prophet (ﷺ) who said (to `Aisha), "Buy and manumit her, for the wala is for the one who manumits." Once some meat was brought to the Prophet (ﷺ) and was said, "This meat was given in charity to Barira. " The Prophet (ﷺ) said, "It is an object of charity for Barira and a gift for us." Narrated Adam: Shu`ba related the same Hadith and added: Barira was given the option regarding her husband
Traduction en ourdou
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں حکم نے، انہیں ابراہیم نخعی سے اور وہ اسود سے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنے کا ارادہ کیا لیکن ان کے مالکوں نے کہا کہ وہ اسی شرط پر انہیں بیچ سکتے ہیں کہ بریرہ کا ترکہ ہم لیں اور ان کے ساتھ ولاء ( آزادی کے بعد ) انہیں سے قائم ہو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ انہیں خرید کر آزاد کر دو۔ ترکہ تو اسی کو ملے گا جو لونڈی غلام کو آزاد کرے اور ولاء بھی اسی کے ساتھ قائم ہو سکتی ہے جو آزاد کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گوشت لایا گیا پھر کہا کہ یہ گوشت بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ کیا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ان کا تحفہ ہے۔ ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا اور اس روایت میں یہ اضافہ کیا کہ پھر ( آزادی کے بعد ) انہیں ان کے شوہر کے متعلق اختیار دیا گیا ( کہ چاہیں ان کے پاس رہیں اور اگر چاہیں ان سے اپنا نکاح توڑ لیں ) ۔