العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / جامع الترمذي / كتاب التفسير / الحديث 3301

جامع الترمذي

الحديث 3301 — كتاب التفسير

الكتاب 47 · Chapters on Tafsir

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ يَهُودِيًّا، أَتَى عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ فَقَالَ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَرَدَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ تَدْرُونَ مَا قَالَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَم�� سَلَّمَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ وَلَكِنَّهُ قَالَ كَذَا وَكَذَا رُدُّوهُ عَلَىَّ ‏"‏ ‏.‏ فَرَدُّوهُ قَالَ ‏"‏ قُلْتَ السَّامُ عَلَيْكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ ذَلِكَ ‏"‏ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقُولُوا عَلَيْكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ عَلَيْكَ مَا قُلْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ‏:‏ ‏(‏وإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ ‏)‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏
صحيح · Ahmad Muhammad Shakirصحيح · Al-AlbaniHasan Sahih · Bashar Awad MaaroufSahih - Agreed Upon · Zubair Ali Zai

جامع الترمذي › كتاب التفسير › الحديث 3301

الترجمة الإنجليزية
Anas bin Malik narrated that:A Jew came to the Prophet of Allah and his Companions and said: “As-Samu Alaikum (Death be upon you).” So the people replied to him. The Prophet of Allah said: “Do you know what this person said?” They said: “Allah and His Messenger know better – he said the Salam – O Allah’s Prophet.” He said: “No, rather he said like this and that. Bring him back for e=me.” So they brought him back and he said: “Did you say As-Samu Alaikum? He said: “Yes.” So with that Allah’s Prophet said: “When one of the People of the Book gives you the Salam, then say: “Alaika Ma Qulta (Whatever you said to you too).” He said: ‘And when they come to you, they greet you with a greeting wherewith Allah greets you not.’
الترجمة الأردية
انس ابن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے پاس آ کر کہا: «السام عليكم» ( تم پر موت آئے ) لوگوں نے اسے اس کے «سام» کا جواب دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا: ”کیا تم جانتے ہو اس نے کیا کہا ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، اے اللہ کے نبی! اس نے تو سلام کیا ہے، آپ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ اس نے تو ایسا ایسا کہا ہے، تم لوگ اس ( یہودی ) کو لوٹا کر میرے پاس لاؤ“، لوگ اس کو لوٹا کر لائے، آپ نے اس یہودی سے پوچھا: تو نے «السام عليكم» کہا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت سے یہ حکم صادر فرمایا دیا کہ جب اہل کتاب میں سے کوئی تمہیں سلام کرے تو تم اس کے جواب میں «عليك ما قلت» ( جو تم نے کہی وہی تمہارے لیے بھی ہے ) کہہ دیا کرو، اور آپ نے یہ آیت پڑھی «وإذا جاءوك حيوك بما لم يحيك به الله» ”یہ یہودی جب تمہارے پاس آتے ہیں تو وہ تمہیں اس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تمہیں سلام نہیں کیا ہے“ ( المجادلہ: ۸ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
‹ السابق355 / 424التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا