الرئيسية / مكتبة الحديث / جامع الترمذي / كتاب التفسير / الحديث 3228
جامع الترمذي
الحديث 3228 — كتاب التفسير
الكتاب 47 · Chapters on Tafsir
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " مَا مِنْ دَاعٍ دَعَا إِلَى شَيْءٍ إِلاَّ كَانَ مَوْقُوفًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لاَزِمًا لَهُ لاَ يُفَارِقُهُ وَإِنْ دَعَا رَجُلٌ رَجُلاً " . ثُمَّ قَرَأَ قَوْلَ اللَّهِ : ( وقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ * مَا لَكُمْ لاَ تَنَاصَرُونَ ) . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ .
ضعيف · Ahmad Muhammad Shakirضعيف · Al-Albaniضعيف · Zubair Ali Zai
جامع الترمذي › كتاب التفسير › الحديث 3228
الترجمة الإنجليزية
Narrated Anas bin Malik:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "No caller invites to anything except that he is detained along with, on the Day of Resurrection, without parting from it, even if a man invites another man." Then he recited the saying of Allah, the Mighty and Sublime: 'But stop them, verily they are to be questioned. What is the matter with you? Why do you not help one another (37:)
الترجمة الأردية
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کسی نے بھی کسی چیز کی طرف دعوت دی قیامت کے دن وہ اسی کے ساتھ چمٹا اور ٹھہرا رہے گا، وہ اسے چھوڑ کر آگے نہیں جا سکتا اگرچہ ایک آدمی نے ایک آدمی ہی کو بلایا ہو“ پھر آپ نے آیت «وقفوهم إنهم مسئولون ما لكم لا تناصرون» ”انہیں روک لو، ان سے پوچھا جائے گا: کیا بات ہے؟ تم لوگ ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے؟“ ( الصافات: ۲۴-۲۵ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے۔