العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / جامع الترمذي / كتاب التفسير / الحديث 3020

جامع الترمذي

الحديث 3020 — كتاب التفسير

الكتاب 47 · Chapters on Tafsir

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ مِنْ أَكْبَرِ الْكَبَائِرِ الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ وَمَا حَلَفَ حَالِفٌ بِاللَّهِ يَمِينَ صَبْرٍ فَأَدْخَلَ فِيهَا مِثْلَ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ إِلاَّ جُعِلَتْ نُكْتَةً فِي قَلْبِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى وَأَبُو أُمَامَةَ الأَنْصَارِيُّ هُوَ ابْنُ ثَعْلَبَةَ وَلاَ نَعْرِفُ اسْمَهُ وَقَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَحَادِيثَ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ‏.‏
حسن · Ahmad Muhammad Shakirحسن · Al-Albaniحسن · Bashar Awad MaaroufIsnaad Hasan · Zubair Ali Zai

جامع الترمذي › كتاب التفسير › الحديث 3020

الترجمة الإنجليزية
Narrated Abu Umamah Al-Ansari:from 'Abdullah bin Unais Al-Juhni who said: "The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Indeed among the worst of the major sins is Shirk with Allah, disobeying the parents, the false oath, and none insists on taking an oath in which he swears, including the like of a wing of a mosquito (of falsehood) in it - except that a spot is placed in his heart until the Day of Judgement
الترجمة الأردية
عبداللہ بن انیس جہنی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑے گناہوں میں سب سے بڑے گناہ یہ ہیں: اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا ہے، جھوٹی قسم کھانا۔ تو جس کسی نے بھی ایسی قسم کھائی جس پر وہ مجبور کر دیا گیا اور ( اسی پر فیصلہ کا انحصار ہے ) پھر اس نے اس میں مچھر کے پر کے برابر جھوٹ شامل کر دیا تو اس کے دل میں ایک ( کالا ) نکتہ ڈال دیا جائے گا جو قیامت تک قائم اور باقی رہے گا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- ابوامامہ انصاری ثعلبہ کے بیٹے ہیں اور ان کا نام ہمیں نہیں معلوم ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیثیں روایت کی ہیں۔
‹ السابق74 / 424التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا