العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / جامع الترمذي / كتاب التفسير / الحديث 2975

جامع الترمذي

الحديث 2975 — كتاب التفسير

الكتاب 47 · Chapters on Tafsir

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ الْحَجُّ عَرَفَاتٌ أَيَّامُ مِنًى ثَلاَثٌ ‏:‏ ‏(‏فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ ‏)‏ وَمَنْ أَدْرَكَ عَرَفَةَ قَبْلَ أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَهَذَا أَجْوَدُ حَدِيثٍ رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ‏.‏ وَرَوَاهُ شُعْبَةُ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ وَلاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ بُكَيْرِ بْنِ عَطَاءٍ ‏.‏
صحيح · Ahmad Muhammad Shakirصحيح · Al-AlbaniHasan Sahih · Bashar Awad Maaroufصحيح · Zubair Ali Zai

جامع الترمذي › كتاب التفسير › الحديث 2975

الترجمة الإنجليزية
Narrated 'Abdur-Rahman bin Ya'mar:that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Hajj is 'Arafat, the Hajj is 'Arafat, the Hajj is 'Arafat. The days of Mina are three: But whoever hastens to leave in two days, there is no sin on him, and whoever stays on, there is no sin on him (2:203). And whoever sees (attends) the 'Arafah before the rising of Fajr, then he has performed the Hajj." Ibn Abi 'Umar said: "Sufyan bin 'Uyainah said: 'This is the best Hadith that Ath-Thawri reported
الترجمة الأردية
عبدالرحمٰن بن یعمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج عرفات کی حاضری ہے، حج عرفات کی حاضری ہے۔ حج عرفات کی حاضری ہے، منیٰ ( میں قیام ) کے دن تین ہیں۔ مگر جو جلدی کر کے دو دنوں ہی میں واپس ہو جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اور جو تین دن پورے کر کے گیا اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ۲؎ اور جو طلوع فجر سے پہلے عرفہ پہنچ گیا، اس نے حج کو پا لیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن ابی عمر کہتے ہیں: سفیان بن عیینہ نے کہا: یہ ثوری کی سب سے عمدہ حدیث ہے، جسے انہوں نے روایت کی ہے، ۳- اسے شعبہ نے بھی بکیر بن عطاء سے روایت کیا ہے، ۴- اس حدیث کو ہم صرف بکیر بن عطاء کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
‹ السابق27 / 424التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا