العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / جامع الترمذي / كتاب فضائل القرآن / الحديث 2923

جامع الترمذي

الحديث 2923 — كتاب فضائل القرآن

الكتاب 45 · Chapters on The Virtues of the Qur'an

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَصَلاَتِهِ فَقَالَتْ مَا لَكُمْ وَصَلاَتَهُ كَانَ يُصَلِّي ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى ثُمَّ يُصَلِّي قَدْرَ مَا نَامَ ثُمَّ يَنَامُ قَدْرَ مَا صَلَّى حَتَّى يُصْبِحَ ثُمَّ نَعَتَتْ قِرَاءَتَهُ فَإِذَا هِيَ تَنْعَتُ قِرَاءَةً مُفَسَّرَةً حَرْفًا حَرْفًا ‏.‏ قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ‏.‏ وَقَدْ رَوَى ابْنُ جُرَيْجٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ ‏.‏ وَحَدِيثُ لَيْثِ أَصَحُّ ‏.‏
ضعيف · Ahmad Muhammad Shakirضعيف · Al-AlbaniHasan Sahih · Bashar Awad MaaroufIsnaad Hasan · Zubair Ali Zai

جامع الترمذي › كتاب فضائل القرآن › الحديث 2923

الترجمة الإنجليزية
Narrated Ya'la bin Mamlak:that he asked Umm Salamah, the wife of the Prophet (ﷺ), about the recitation of the Prophet (ﷺ) and his Salat. She said: "What can you do compared to his Salat? He would pray and then sleep as long as he had prayed. Then he would pray as long as he had slept. Then he slept as long as he had prayed until the morning.' Then she described his recitation. So she described his recitation as word by word
الترجمة الأردية
یعلیٰ بن مملک سے روایت ہے، انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی الله عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز اور آپ کی قرأت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: تمہارا اور آپ کی نماز کا کیا جوڑ؟ آپ نماز پڑھتے تھے پھر اتنی دیر سوتے تھے جتنی دیر نماز پڑھے ہوتے، پھر نماز پڑھتے تھے اسی قدر جتنی دیر سوئے ہوئے ہوتے، پھر اتنی دیر سوتے تھے جتنی دیر نماز پڑھے ہوتے۔ یہاں تک کہ آپ صبح کرتے، پھر انہوں نے آپ کے قرأت کی کیفیت بیان کی اور انہوں نے اس کیفیت کو واضح طور پر ایک ایک حرف حرف کر کے بیان کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اسے ہم صرف لیث بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے یعلیٰ بن مملک کے واسطہ سے ام سلمہ سے روایت کی، ۳- ابن جریج نے یہ حدیث ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرأت کا ہر حرف جدا جدا ہوتا تھا، ۴- لیث کی حدیث ( ابن جریج کی حدیث سے ) زیادہ صحیح ہے۔
‹ السابق49 / 52التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا