الرئيسية / مكتبة الحديث / جامع الترمذي / كتاب الفرائض / الحديث 2106
جامع الترمذي
الحديث 2106 — كتاب الفرائض
الكتاب 29 · Chapters On Inheritance
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا إِلاَّ عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ فَأَعْطَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِيرَاثَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . وَالْعَمَلُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي هَذَا الْبَابِ إِذَا مَاتَ الرَّجُلُ وَلَمْ يَتْرُكْ عَصَبَةً أَنَّ مِيرَاثَهُ يُجْعَلُ فِي بَيْتِ مَالِ الْمُسْلِمِينَ .
ضعيف · Ahmad Muhammad Shakirضعيف · Al-Albaniحسن · Bashar Awad Maaroufحسن · Zubair Ali Zai
جامع الترمذي › كتاب الفرائض › الحديث 2106
الترجمة الإنجليزية
Ibn 'Abbas narrated that :a man died during the time of the Messenger of Allah(S.A.W) ,and he did not leave any heirs except for a slave that he had freed. So the Prophet gave him his inheritance
الترجمة الأردية
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی مر گیا اور اپنے پیچھے کوئی وارث نہیں چھوڑا سوائے ایک غلام کے جس کو اس نے آزاد کیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی غلام کو اس کی میراث دے دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں اہل علم کا عمل ہے کہ جب کوئی آدمی مر جائے اور اپنے پیچھے کوئی عصبہ نہ چھوڑے تو اس کا مال مسلمانوں کے بیت المال میں جمع کیا جائے گا۔