العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن النسائي / كتاب الطلاق / الحديث 3541

سنن النسائي

الحديث 3541 — كتاب الطلاق

الكتاب 27 · The Book of Divorce

أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ، أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ وَأُمَّ حَبِيبَةَ أَتَكْتَحِلُ فِي عِدَّتِهَا مِنْ وَفَاةِ زَوْجِهَا فَقَالَتْ أَتَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَتْهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا أَقَامَتْ سَنَةً ثُمَّ قَذَفَتْ خَلْفَهَا بِبَعْرَةٍ ثُمَّ خَرَجَتْ وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا حَتَّى يَنْقَضِيَ الأَجَلُ ‏"‏ ‏.‏
صحيح · Abu Ghuddahصحيح · Al-Albaniحسن · Zubair Ali Zai

سنن النسائي › كتاب الطلاق › الحديث 3541

الترجمة الإنجليزية
It was narrated from Zainab that a woman asked Umm Salamah and Umm Habibah whether she could put on kohl during her 'Iddah following her husband's death. She said:"A woman came to the Prophet and asked him about that, and he said: 'During the Jahiliyyah, if her husband died, one of you would stay (in mourning) for a year, then she would throw a piece of dung then come out. Rather it (the mourning period) is four months and ten days, until the term prescribed is fulfilled
الترجمة الأردية
زینب (زینب بنت ام سلمہ رضی الله عنہا) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا کوئی عورت اپنے شوہر کے انتقال پر عدت گزارنے کے دوران سرمہ لگا سکتی ہے؟ تو انہوں نے بتایا: ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے یہی سوال کیا ( جو تم نے کیا ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمانہ جاہلیت میں تم میں سے جس عورت کا شوہر اسے چھوڑ کر مر جاتا تھا تو وہ عورت سال بھر سوگ مناتی رہتی یہاں تک کہ وہ وقت آتا کہ وہ اپنے پیچھے مینگنی پھینکتی پھر وہ گھر سے نکلتی“۔ ( تب اس کی عدت پوری ہوتی ) اور مدت پوری ہونے تک یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں ( سال بھر کے مقابل میں یہ کچھ بھی نہیں ) ۔
‹ السابق155 / 174التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا