الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن النسائي / كتاب الطلاق / الحديث 3459
سنن النسائي
الحديث 3459 — كتاب الطلاق
الكتاب 27 · The Book of Divorce
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، قَالَ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ أَبَانَ، قَالَ سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ، قَالَ أَتَى رَجُلٌ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّهُ ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ ثُمَّ غَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يَفْعَلَ مَا عَلَيْهِ . قَالَ " مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ " . قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ رَأَيْتُ بَيَاضَ سَاقَيْهَا فِي الْقَمَرِ . قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَاعْتَزِلْ حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ " . وَقَالَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ " فَاعْتَزِلْهَا حَتَّى تَقْضِيَ مَا عَلَيْكَ " . وَاللَّفْظُ لِمُحَمَّدٍ . قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُرْسَلُ أَوْلَى بِالصَّوَابِ مِنَ الْمُسْنَدِ وَاللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ .
حسن · Abu Ghuddahحسن · Al-Albaniحسن · Zubair Ali Zai
سنن النسائي › كتاب الطلاق › الحديث 3459
الترجمة الإنجليزية
Ikrimah said:"A man came to the Prophet of Allah and said: 'O Prophet of Allah,' and that he had declared Zihar to his wife, then he had intercourse with her before he did what he had to do. He said: 'What made you do that?' He said: 'O Prophet of Allah! I saw the whiteness of her calves in the moonlight.' The Prophet said: 'Keep away until you have done what you have to do.' (One of the narrators) Ishaq said in his Hadith: "Keep away from her until you have done what you have to do." The wording is that of Muhammad
الترجمة الأردية
عکرمہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اللہ کے نبی! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور ظہار کا کفارہ ادا کرنے سے پہلے ہی اسے چھاپ لیا۔ آپ نے فرمایا: ”کس چیز نے تمہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا؟“ اس نے کہا: اللہ کے نبی! میں نے چاندنی رات میں اس کی گوری گوری پنڈلیاں دیکھیں ( تو بے قابو ہو گیا ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے الگ رہو جب تک کہ تم ادا نہ کر دو وہ چیز جو تم پر عائد ہوتی ہے ( یعنی کفارہ دے دو ) “۔ اسحاق بن راہویہ نے اپنی حدیث میں «فاعتزل» کے بجائے «فاعتزلہا» بیان کیا ہے اور یہ «فاعتزل» لفظ محمد کی روایت میں ہے۔ امام ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: یہ مرسل حدیث مسند کے مقابل میں زیادہ صحیح اور اولیٰ ہے واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم ۱؎۔