العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن النسائي / كتاب الحج / الحديث 2705

سنن النسائي

الحديث 2705 — كتاب الحج

الكتاب 24 · The Book of Hajj

أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَسُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ لأَنْ أُصْبِحَ مُطَّلِيًا بِقَطِرَانٍ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ أَنْ أُصْبِحَ مُحْرِمًا أَنْضَحُ طِيبًا ‏.‏ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرْتُهَا بِقَوْلِهِ فَقَالَتْ طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَطَافَ فِي نِسَائِهِ ثُمَّ أَصْبَحَ مُحْرِمًا ‏.‏
صحيح · Abu Ghuddahصحيح · Al-Albaniحسن · Zubair Ali Zai

سنن النسائي › كتاب الحج › الحديث 2705

الترجمة الإنجليزية
It was narrated from Muhammad bin Ibrahim bin Al-Muntashir that his father said:"I heard Ibn 'Umar say: 'If I were to wake up daubed with tar, that would be dearer to me than waking up and entering Ihram smelling strongly of perfume.' I entered upon 'Aishah and told her what he had said. She said: 'I put perfume on the Messenger of Allah and he went around among his wives, then the next morning he entered Ihram
الترجمة الأردية
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھ پر تار کول مل دیا جائے تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں احرام کی حالت میں صبح کروں اور میرے جسم سے خوشبو بکھر رہی ہو۔ تو میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا، اور میں نے انہیں ان کی بات بتائی تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگائی پھر آپ اپنی بیویوں کے پاس پھرے، آپ نے صبح کیا اس حال میں کہ آپ محرم تھے۔
‹ السابق87 / 467التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا