الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن النسائي / كتاب الحج / الحديث 2619
سنن النسائي
الحديث 2619 — كتاب الحج
الكتاب 24 · The Book of Hajj
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، - وَاسْمُهُ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ - قَالَ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ فَقَالَ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ " . فَقَالَ رَجُلٌ فِي كُلِّ عَامٍ فَسَكَتَ عَنْهُ حَتَّى أَعَادَهُ ثَلاَثًا فَقَالَ " لَوْ قُلْتُ نَعَمْ لَوَجَبَتْ وَلَوْ وَجَبَتْ مَا قُمْتُمْ بِهَا ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ فَإِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ وَاخْتِلاَفِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ فَإِذَا أَمَرْتُكُمْ بِالشَّىْءِ فَخُذُوا بِهِ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَإِذَا نَهَيْتُكُمْ عَنْ شَىْءٍ فَاجْتَنِبُوهُ " .
صحيح · Abu Ghuddahصحيح · Al-AlbaniSahih Muslim · Zubair Ali Zai
سنن النسائي › كتاب الحج › الحديث 2619
الترجمة الإنجليزية
It was narrated that Abu Hurairah said:"The Messenger of Allah addressed the people and said: 'Allah, the Mighty and Sublime, has enjoined upon you Hajj.' A man said: 'Every year?' He remained silent until he had repeated it three times. Then he said: 'If I said yes, it would be obligatory, and if it were obligatory you would not be able to do it. Leave me alone so long as I have left you alone. Those who came before you were destroyed because they asked too many questions and differed with their prophets. If I command you to do something then follow it as much as you can, and if I forbid you to do something then avoid it
الترجمة الأردية
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا تو فرمایا: ”اللہ عزوجل نے تم پر حج فرض کیا ہے“ ایک شخص نے پوچھا: کیا ہر سال؟ آپ خاموش رہے یہاں تک اس نے اسے تین بار دہرایا تو آپ نے فرمایا: ”اگر میں کہہ دیتا ہاں، تو وہ واجب ہو جاتا، اور اگر واجب ہو جاتا تو تم اسے ادا نہ کر پاتے، تم مجھے میرے حال پر چھوڑے رہو جب تک کہ میں تمہیں تمہارے حال پر چھوڑے رکھوں ۱؎، تم سے پہلے لوگ بکثرت سوال کرنے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرنے کے سبب ہلاک ہوئے، جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو جہاں تک تم سے ہو سکے اس پر عمل کرو۔ اور جب کسی چیز سے روکوں تو اس سے باز آ جاؤ“۔
1 / 467التالي ›