العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن النسائي / كتاب الجنائز / الحديث 2076

سنن النسائي

الحديث 2076 — كتاب الجنائز

الكتاب 21 · The Book of Funerals

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَقَفَ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا - قَالَ - إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ الآنَ مَا أَقُولُ لَهُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ فَقَالَتْ وَهَلَ ابْنُ عُمَرَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّهُمُ الآنَ يَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَرَأَتْ قَوْلَهُ ‏{‏ إِنَّكَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتَى ‏}‏ حَتَّى قَرَأَتِ الآيَةَ ‏.‏
صحيح · Abu Ghuddahصحيح · Al-AlbaniSahih - Agreed Upon · Zubair Ali Zai

سنن النسائي › كتاب الجنائز › الحديث 2076

الترجمة الإنجليزية
it was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet stood at the well of Badr and said:"Have you found what your Lord promised to be true?" he said: "They can hear what I am saying to them now". Mention of that was made to 'Aishah and she said: "Ibn 'Umar is mistaken. Rather the Messenger of Allah said: "Ibn 'Umar is mistaken. Rather the Messenger of Allah said: 'Now they know that what I used to say to them is the truth.' Then she recited: So verily, you (O Muhammad) cannot make the dead to hear., until she recited the verse
الترجمة الأردية
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے کنویں پہ کھڑے ہوئے ( اور ) فرمایا: ”کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا؟“ ( پھر ) آپ نے فرمایا: ”اس وقت جو کچھ میں ان سے کہہ رہا ہوں اسے یہ لوگ سن رہے ہیں“، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا، تو انہوں نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھول ہوئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ) کہا تھا: ”یہ لوگ اب خوب جان رہے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ سچ تھا“، پھر انہوں نے اللہ کا قول پڑھا: «إنك لا تسمع الموتى» ( النمل: ۸۰ ) یہاں تک کہ پوری آیت پڑھی۔
‹ السابق259 / 272التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا