الرئيسية / مكتبة الحديث / موطأ مالك / كتاب الكلام / الحديث 1830
موطأ مالك
الحديث 1830 — كتاب الكلام
الكتاب 56 · Speech
حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " إِنَّ اللَّهَ يَرْضَى لَكُمْ ثَلاَثًا وَيَسْخَطُ لَكُمْ ثَلاَثًا يَرْضَى لَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَأَنْ تَعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَأَنْ تَنَاصَحُوا مَنْ وَلاَّهُ اللَّهُ أَمْرَكُمْ وَيَسْخَطُ لَكُمْ قِيلَ وَقَالَ وَإِضَاعَةَ الْمَالِ وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ " .
صحيح · Salim al-Hilali
موطأ مالك › كتاب الكلام › الحديث 1830
الترجمة الإنجليزية
Malik related to me from Suhayl ibn Abi Salih from his father from Abu Hurayra that the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, "Allah is pleased with three things from you, and He is angry with three things from you. He is pleased that you worship Him and do not associate anything with Him, and that you take hold of the rope of Allah altogether, and that you give good counsel to the one to whom Allah gives command over you. He is angry with you for gossip, squandering property, and asking too many questions
الترجمة الأردية
ابو صالح سے روایت ہے ( انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سنا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوش ہوتا ہے تین باتوں پر اور ناراض ہوتا ہے تین باتوں پر، خوش ہوتا ہے اس سے جو تم شریک نہ کرو اس کے ساتھ کسی کو، پکڑے رہو اللہ کی رسی کو یعنی قرآن کو) اور نصیب کرو اپنے حکم کو یعنی نیک باتیں اسے بتلاؤ اور بری باتوں سے بچاؤ اور ناراض ہوتا ہے بہت باتیں کرنے سے اور مال تلف کرنے سے یعنی بے جا خرچ کرنے سے اور بہت سوال کرنے سے۔