الرئيسية / مكتبة الحديث / موطأ مالك / كتاب حسن الخلق / الحديث 1636
موطأ مالك
الحديث 1636 — كتاب حسن الخلق
الكتاب 47 · Good Character
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا قَالَتِ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ عَائِشَةُ وَأَنَا مَعَهُ فِي الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بِئْسَ ابْنُ الْعَشِيرَةِ " . ثُمَّ أَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ سَمِعْتُ ضَحِكَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَهُ فَلَمَّا خَرَجَ الرَّجُلُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ فِيهِ مَا قُلْتَ ثُمَّ لَمْ تَنْشَبْ أَنْ ضَحِكْتَ مَعَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ مَنِ اتَّقَاهُ النَّاسُ لِشَرِّهِ " .
صحيح · Salim al-Hilali
موطأ مالك › كتاب حسن الخلق › الحديث 1636
الترجمة الإنجليزية
Yahya related to me from Malik that he had heard that A'isha, the wife of the Prophet, may Allah bless him and grant him peace, said, "A man asked permission to come in to see the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace. I was with him in the house and the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'He is an evil member of his tribe.' Then the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, gave him permission." A'isha continued, "It was not long before I heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, laughing with him. When the man left, I said, 'Messenger of Allah, you said what you said about him, and then before long you were laughing with him.' The Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, replied, 'Among the most evil of people is the one whom people are cautious with because of his evil
الترجمة الأردية
علی بن حسین بن علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسلام کی بہتریوں میں سے یہ ہے کہ آدمی بے کار اور فضول چیزوں کو چھوڑ دے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اذن چاہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنے کا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھی گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا برا آدمی ہے یہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو آنے کی اجازت دی حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ تھوڑی دیر نہیں گزری تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میں نے اس کے ساتھ ہنستے ہوئے سنا جب وہ چلا گیا تو میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابھی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو برا کہا تھا ابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ہنسنے لگے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ سب آدمیوں میں برا وہ آدمی ہے جس سے لوگ بچیں یا ڈریں اس کے شر کے سبب سے ۔