العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / موطأ مالك / كتاب الأقضية / الحديث 1438

موطأ مالك

الحديث 1438 — كتاب الأقضية

الكتاب 36 · Judgements

وَحَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، أَنَّ رَقِيقًا، لِحَاطِبٍ سَرَقُوا نَاقَةً لِرَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ فَانْتَحَرُوهَا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَمَرَ عُمَرُ كَثِيرَ بْنَ الصَّلْتِ أَنْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ أَرَاكَ تُجِيعُهُمْ ‏.‏ ثُمَّ قَالَ عُمَرُ وَاللَّهِ لأُغَرِّمَنَّكَ غُرْمًا يَشُقُّ عَلَيْكَ ثُمَّ قَالَ لِلْمُزَنِيِّ كَمْ ثَمَنُ نَاقَتِكَ فَقَالَ الْمُزَنِيُّ قَدْ كُنْتُ وَاللَّهِ أَمْنَعُهَا مِنْ أَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ ‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ أَعْطِهِ ثَمَانَمِائَةِ دِرْهَمٍ ‏.‏ قَالَ يَحْيَى سَمِعْتُ مَالِكًا يَقُولُ وَلَيْسَ عَلَى هَذَا الْعَمَلُ عِنْدَنَا فِي تَضْعِيفِ الْقِيمَةِ وَلَكِنْ مَضَى أَمْرُ النَّاسِ عِنْدَنَا عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا يَغْرَمُ الرَّجُلُ قِيمَةَ الْبَعِيرِ أَوِ الدَّابَّةِ يَوْمَ يَأْخُذُهَا ‏.‏
Mauquf Sahih · Salim al-Hilali

موطأ مالك › كتاب الأقضية › الحديث 1438

الترجمة الإنجليزية
Malik related to me from Hisham ibn Urwa from his father from Yahya ibn Abd ar-Rahman ibn Hatib that some slaves of Hatib stole a she-camel belonging to a man from the Muzayna tribe and they slaughtered it. The case was brought before Umar ibn al-Khattab, and Umar ordered Kathir ibn as-Salt to cut off their hands. Then Umar said to Habib, "I think you must be starving them," and he added, "By Allah! I will make you pay such a fine that it will be heavy for you." He enquired of the man from the Muzayna tribe, "What was the price of your camel?" The Muzayni said, "By Allah, I refused to sell her for 400 dirhams.'' Umar said, ''Give him 800 dirhams." Yahya said that he heard Malik say, "Doubling the price is not the behaviour of our community. What people have settled on among us is that the man is obliged to pay the value of the camel or animal on the day he took it
الترجمة الأردية
یحیی بن عبدالرحمن بن حاطب سے روایت ہے کہ غلاموں نے ایک شخص کا اونٹ چرا کر کاٹ ڈالا جب یہ مقدمہ حضرت عمر کے پاس گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثیر بن صلت سے کہا ان غلاموں کا ہاتھ کاٹ ڈال پھر حاطب سے کہا میں سمجھتا ہوں کہ تو ان غلاموں کو بھوکا رکھتا ہوگا پھر حضرت عمر نے کہا حاطب سے قسم اللہ کی میں تجھ سے ایسا تاوان دلاؤں گا جو تجھ پر بہت گران گزرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ والے سے پوچھا تیرا اونٹ کتنے کا ہوگا اس نے کہا میں نے چار سو درہم کو اسے اس نے نہیں بیچا حضرت عمر نے کہا تو آٹھ سو درہم اس کے دے کہا مالک نے ہمارے نزدیک قیمت دوچند لینے میں اس روایت پر عمل نہ ہوگا لیکن در آمد لوگوں کی یہ رہی کہ اس جانور کی جو قمیت چرانے کے دن ہوگی وہ دینی ہوگی۔
‹ السابق40 / 56التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا