العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / موطأ مالك / كتاب الحج / الحديث 953

موطأ مالك

الحديث 953 — كتاب الحج

الكتاب 20 · Hajj

وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، مَرَّ بِامْرَأَةٍ مَجْذُومَةٍ وَهِيَ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقَالَ لَهَا يَا أَمَةَ اللَّهِ لاَ تُؤْذِي النَّاسَ لَوْ جَلَسْتِ فِي بَيْتِكِ ‏.‏ فَجَلَسَتْ فَمَرَّ بِهَا رَجُلٌ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهَا إِنَّ الَّذِي كَانَ قَدْ نَهَاكِ قَدْ مَاتَ فَاخْرُجِي ‏.‏ فَقَالَتْ مَا كُنْتُ لأُطِيعَهُ حَيًّا وَأَعْصِيَهُ مَيِّتًا ‏.‏
Mauquf Daif · Salim al-Hilali

موطأ مالك › كتاب الحج › الحديث 953

الترجمة الإنجليزية
Yahya related to me from Malik from Abdullah ibn Abi Bakr ibn Hazm from Ibn Abi Mulayka that Umar ibn al-Khattab passed a leprous woman doing tawaf of the House, and he said to her, "Slave of Allah, do not make people uneasy. Better that you stay in your house," so she did so. A man passed by her after that and said to her, "The one who forbade you has died, so come out," and she replied, "I am not going to obey him when he is alive and disobey him when he is dead
الترجمة الأردية
ابن ابی ملکیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ایک جذامی عورت کے پاس سے گزرے جو خانہ کعبہ کا طواف کر رہی تھی، تو (عمر نے) کہا اے اللہ کی لونڈی لوگوں کو تکلیف مت دے، کاش تو اپنے گھر میں بیٹھتی ، وہ اپنے گھر میں بیٹھی رہی یہاں تک کہ ایک شخص اس سے ملا اور بولا کہ جس شخص نے تجھ کو منع کیا تھا وہ مر گیا، اب نکل؛ عورت بولی میں ایسی نہیں کہ زندگی میں تو میں اس شخص کی اطاعت کروں اور مرنے کے بعد اس کی نافرمانی کروں۔ امام مالک کو یہ روایت پہنچی کہ عبداللہ بن عباس کہتے تھے کہ "ملتزم " حجر اسود اور کعبہ کے دروازہ کے درمیان میں ہے ۔
‹ السابق247 / 251التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا