الرئيسية / مكتبة الحديث / موطأ مالك / كتاب القرآن / الحديث 479
موطأ مالك
الحديث 479 — كتاب القرآن
الكتاب 15 · The Qur'an
وَحَدَّثَنِي عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " يَخْرُجُ فِيكُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلاَتَكُمْ مَعَ صَلاَتِهِمْ وَصِيَامَكُمْ مَعَ صِيَامِهِمْ وَأَعْمَالَكُمْ مَعَ أَعْمَالِهِمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَلاَ يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ تَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلاَ تَرَى شَيْئًا وَتَنْظُرُ فِي الْقِدْحِ فَلاَ تَرَى شَيْئًا وَتَنْظُرُ فِي الرِّيشِ فَلاَ تَرَى شَيْئًا وَتَتَمَارَى فِي الْفُوقِ " .
صحيح · Salim al-Hilali
موطأ مالك › كتاب القرآن › الحديث 479
الترجمة الإنجليزية
Yahya related to me from Malik from Yahya ibn Said from Muhammad ibn Ibrahim ibn al-Harith at-Taymi from Abu Salama ibn Abd ar Rahman that Abu Said said that he had heard the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, say, "A group of people will appear among you whose prayer, fasting and deeds will make you think little of your own prayer, fasting and deeds. They will recite the Qur'an, but it wil not get past their throats, and they will pass through the deen like an arrow passes through game. You look at the arrowhead, and you see nothing, and you look at the shaft, and you see nothing, and you look at the flights, and you see nothing. And you are in doubt about the notch
الترجمة الأردية
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے نکلیں گے تم میں سے کچھ لوگ جو حقیر جانیں گے تمہاری نماز کو اپنی نماز کے مقابلے میں اور تمہارے روزوں کو اپنے روزوں کے مقابلہ میں اور تمہارے اعمال کو اپنے اعمال کے مقابلہ میں پڑھیں گے کلام اللہ کو اور نہ اترے گا ان کے حلقوں کے نیچے نکل جائیں گے دین سے جیسے نکل جاتا ہے تیر اس جانور میں سے جو شکار کیا جائے آر پار ہو کر صاف اگر پیکان کو دیکھے اس میں بھی کچھ نہیں پائے اگر تیر کی لکڑی کو دیکھے اس میں بھی کچھ نہ پائے اگر پر کو دیکھے اس میں بھی کچھ نہ پائے اور سو فار میں شک ہو کہ کچھ لگا ہے یا نہیں۔ امام مالک کو پہنچا کہ عبداللہ بن عمر سورت بقرہ آٹھ برس تک سیکھتے رہے ۔