العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن ابن ماجه / كتاب الجنائز / الحديث 1528

سنن ابن ماجه

الحديث 1528 — كتاب الجنائز

الكتاب 6 · Chapters Regarding Funerals

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ، وَكَانَ، أَكْبَرَ مِنْ زَيْدٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمَّا وَرَدَ الْبَقِيعَ فَإِذَا هُوَ بِقَبْرٍ جَدِيدٍ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا فُلاَنَةُ ‏.‏ قَالَ فَعَرَفَهَا وَقَالَ ‏"‏ أَلاَ آذَنْتُمُونِي بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا كُنْتَ قَائِلاً صَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُؤْذِيَكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَلاَ تَفْعَلُوا لاَ أَعْرِفَنَّ مَا مَاتَ فِيكُمْ مَيِّتٌ مَا كُنْتُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ إِلاَّ آذَنْتُمُونِي بِهِ فَإِنَّ صَلاَتِي عَلَيْهِ لَهُ رَحْمَةٌ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَتَى الْقَبْرَ فَصَفَّنَا خَلْفَهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا ‏.‏
صحيح · Al-Albaniصحيح · Muhammad Fouad Abd al-Baqiصحيح · Shuaib Al ArnautIsnaad Sahih · Zubair Ali Zai

سنن ابن ماجه › كتاب الجنائز › الحديث 1528

الترجمة الإنجليزية
Kharijah bin Zaid bin Thabit narrated that Yazid bin Thabit, who was older than Zaid, said:“We went out with the Prophet (ﷺ) and when we reached Al-Baqi’, we saw a new grave. He asked about it and they said: ‘(It is) so-and-so (a woman).’ He recognized the name and said: ‘Why did you not tell me about her?’ They said: ‘You were taking a nap and you were fasting, and we did not like to disturb you.’ He said: ‘Do not do that; I do not want to see it happen again that one of you dies, while I am still among you, and you do not tell me, for my prayer for him is a mercy.’ Then he went to the grave and we lined up in rows behind him, and he said four Takbir (i.e. for the funeral prayer).”
الترجمة الأردية
یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ (وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی) کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، جب آپ مقبرہ بقیع پہنچے تو وہاں ایک نئی قبر دیکھی، آپ نے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا: فلاں عورت کی ہے، آپ نے اس کو پہچان لیا اور فرمایا: تم لوگوں نے اس کی خبر مجھ کو کیوں نہ دی؟ ، لوگوں نے کہا: آپ دوپہر میں آرام فرما رہے تھے، اور روزے سے تھے، ہم نے آپ کو تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب ایسا نہ کرنا، آئندہ مجھے یہ معلوم نہ ہونے پائے کہ پھر تم لوگوں نے ایسا کیا ہے، جب تم لوگوں میں سے کوئی شخص مر جائے تو جب تک میں تم میں زندہ ہوں مجھے خبر کرتے رہو، اس لیے کہ اس پر میری نماز اس کے لیے رحمت ہے، پھر آپ اس کی قبر کے پاس آئے، اور ہم نے آپ کے پیچھے صف باندھی، آپ نے اس پر چار تکبیریں کہیں ۱؎۔
‹ السابق96 / 205التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا