الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن ابن ماجه / كتاب الزهد / الحديث 4261
سنن ابن ماجه
الحديث 4261 — كتاب الزهد
الكتاب 37 · Zuhd
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، : أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ دَخَلَ عَلَى شَابٍّ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَقَالَ : " كَيْفَ تَجِدُكَ " . قَالَ : أَرْجُو اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَخَافُ ذُنُوبِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ : " لاَ يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَوْطِنِ إِلاَّ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا يَرْجُو وَآمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ " .
حسن · Al-Albaniحسن · Muhammad Fouad Abd al-Baqiحسن · Zubair Ali Zai
سنن ابن ماجه › كتاب الزهد › الحديث 4261
الترجمة الإنجليزية
It was narrated from Anas that the Prophet (ﷺ) entered upon a young man who was dying and said:“How do you feel?” He said: “I have hope in Allah, O Messenger of Allah, but I fear my sins.” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “These two things (hope and fear) do not coexist in the heart of a person in a situation like this, but Allah will give him that which he hopes for and keep him safe from that which he fears.”
الترجمة الأردية
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نوجوان کے پاس آئے جو مرض الموت میں تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو ؟ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی رحمت کی امید کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس بندے کے دل میں ایسے وقت میں یہ دونوں کیفیتیں جمع ہو جائیں، اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز دے گا جس کی وہ امید کرتا ہے، اور جس چیز سے ڈرتا ہے، اس سے محفوظ رکھے گا ۔