الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن ابن ماجه / كتاب الفتن / الحديث 4061
سنن ابن ماجه
الحديث 4061 — كتاب الفتن
الكتاب 36 · Tribulations
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلاً، أَتَى ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ إِنَّ فُلاَنًا يَقْرَأُ عَلَيْكَ السَّلاَمَ قَالَ إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ فَإِنْ كَانَ قَدْ أَحْدَثَ فَلاَ تُقْرِئْهُ مِنِّي السَّلاَمَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " يَكُونُ فِي أُمَّتِي - أَوْ فِي هَذِهِ الأُمَّةِ - مَسْخٌ وَخَسْفٌ وَقَذْفٌ " . وَذَلِكَ فِي أَهْلِ الْقَدَرِ .
حسن · Al-Albaniحسن · Muhammad Fouad Abd al-BaqiHasan Lighairihi · Shuaib Al ArnautIsnaad Hasan · Zubair Ali Zai
سنن ابن ماجه › كتاب الفتن › الحديث 4061
الترجمة الإنجليزية
It was narrated from Nafi’ that a man came to Ibn ‘Umar and said:“So-and-so sends his Salam to you.” He said: “I have heard that he has introduced innovations (into Islam). If he has indeed introduced innovations, then do not convey my Salam to him, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘There will be among my nation – or among this nation – transformations, the earth collapsing, and Qadhf.’ That was concerning Ahlul-Qadar.”
الترجمة الأردية
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا: فلاں شخص آپ کو سلام کہتا ہے، انہوں نے کہا: مجھے خبر پہنچی ہے کہ اس نے دین میں بدعت نکالی ہے، اگر اس نے ایسا کیا ہو تو اسے میرا سلام نہ کہنا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: میری امت میں ( یا اس امت میں ) مسخ ( صورتوں کی تبدیلی ) ، اور زمین کا دھنسنا آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا ہو گا ، اور یہ قدریہ میں ہو گا جو تقدیر کے منکر ہیں ۱؎۔