الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / الحديث 3668
سنن ابن ماجه
الحديث 3668 — كتاب الأدب
الكتاب 33 · Etiquette
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ صَعْصَعَةَ، عَمِّ الأَحْنَفِ قَالَ دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَأَعْطَتْهَا ثَلاَثَ تَمَرَاتٍ فَأَعْطَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً ثُمَّ صَدَعَتِ الْبَاقِيَةَ بَيْنَهُمَا . قَالَتْ فَأَتَى النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ " مَا عَجَبُكِ لَقَدْ دَخَلَتْ بِهِ الْجَنَّةَ " .
صحيح · Al-Albaniصحيح · Muhammad Fouad Abd al-Baqiصحيح · Zubair Ali Zai
سنن ابن ماجه › كتاب الأدب › الحديث 3668
الترجمة الإنجليزية
It was narrated that Sa'sa'ah the paternal uncle of Ahnaf, said:"A woman entered upon Aisha with her two daughters, and she gave her three dates. (The woman) gave each of her daughters a date, then she split the last one between them. She (Aisha) said: 'Then the Prophet(ﷺ) came and I told him about that.' He said:' Why are you surprised? She will enter Paradise because of that
الترجمة الأردية
احنف کے چچا صعصعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کو ساتھ لے کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئی، تو انہوں نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس عورت نے ایک ایک کھجور دونوں کو دی، اور تیسری کھجور کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کے درمیان تقسیم کر دی، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں تعجب کیوں ہے؟ وہ تو اس کام کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گئی ۱؎۔