العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن ابن ماجه / كتاب مناسك الحج / الحديث 3009

سنن ابن ماجه

الحديث 3009 — كتاب مناسك الحج

الكتاب 25 · Chapters on Hajj Rituals

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، أَنْبَأَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ حَسَّانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ يَنْزِلُ بِعَرَفَةَ فِي وَادِي نَمِرَةَ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ أَىَّ سَاعَةٍ كَانَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَرُوحُ فِي هَذَا الْيَوْمِ قَالَ إِذَا كَانَ ذَلِكَ رُحْنَا ‏.‏ فَأَرْسَلَ الْحَجَّاجُ رَجُلاً يَنْظُرُ إِلَى سَاعَةِ يَرْتَحِلُ ‏.‏ فَلَمَّا أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ أَنْ يَرْتَحِلَ قَالَ أَزَاغَتِ الشَّمْسُ قَالُوا لَمْ تَزِغْ بَعْدُ ‏.‏ فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَزَاغَتِ الشَّمْسُ قَالُوا لَمْ تَزِغْ بَعْدُ ‏.‏ فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَزَاغَتِ الشَّمْسُ قَالُوا لَمْ تَزِغْ بَعْدُ ‏.‏ فَجَلَسَ ثُمَّ قَالَ أَزَاغَتِ الشَّمْسُ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ فَلَمَّا قَالُوا قَدْ زَاغَتِ ارْتَحَلَ ‏.‏ قَالَ وَكِيعٌ يَعْنِي رَاحَ ‏.‏
حسن · Al-Albaniحسن · Muhammad Fouad Abd al-Baqiضعيف · Shuaib Al Arnautضعيف · Zubair Ali Zai

سنن ابن ماجه › كتاب مناسك الحج › الحديث 3009

الترجمة الإنجليزية
It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) used to stop at ‘Arafat in Namirah Valley. When Hajjaj killed Ibn Zubair, he sent word to Ibn ‘Umar asking:“At what hour did the Prophet (ﷺ) go out on this day?” He said: “When that time comes, we will go out.” So Hajjah sent a man to watch for the time when they went out. When Ibn ‘Umar wanted to set out, he said: “Has the sun passed the zenith?” They said: “It has not passed the zenith yet.” So he sat down. Then he said: “Has the sun passed the zenith?” They said: “It has not passed the zenith yet.” So he sat down. Then he said: “Has the sun passed the zenith?” They said: “Yes.” When they said that it had passed the zenith, he set out
الترجمة الأردية
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات کی وادی نمرہ میں ٹھہرتے، راوی کہتے ہیں: جب حجاج نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو قتل کیا، تو ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس یہ پوچھنے کے لیے آدمی بھیجا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آج کے دن کس وقت ( نماز اور خطبہ کے لیے ) نکلتے تھے؟ انہوں نے کہا: جب یہ وقت آئے گا تو ہم خود چلیں گے، حجاج نے ایک آدمی کو بھیجا کہ وہ دیکھتا رہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کب نکلتے ہیں؟ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما نے چلنے کا ارادہ کیا، تو پوچھا: کیا سورج ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، تو وہ بیٹھ گئے، پھر پوچھا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ابھی نہیں ڈھلا ہے، پھر آپ بیٹھ گئے، پھر آپ نے کہا: کیا اب ڈھل گیا؟ لوگوں نے کہا: ہاں، تو جب لوگوں نے کہا: ہاں، تو وہ چلے۔ وکیع نے «ارتحل» کا معنی «راح» ( چلے ) بتایا ہے۔
‹ السابق128 / 238التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا