الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن ابن ماجه / كتاب الجهاد / الحديث 2772
سنن ابن ماجه
الحديث 2772 — كتاب الجهاد
الكتاب 24 · The Chapters on Jihad
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ ذُكِرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ وَكَانَ أَجْوَدَ النَّاسِ وَكَانَ أَشْجَعَ النَّاسِ وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَيْلَةً فَانْطَلَقُوا قِبَلَ الصَّوْتِ فَتَلَقَّاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ سَبَقَهُمْ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لأَبِي طَلْحَةَ عُرْىٍ مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ فِي عُنُقِهِ السَّيْفُ وَهُوَ يَقُولُ " يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَنْ تُرَاعُوا " . يَرُدُّهُمْ ثُمَّ قَالَ لِلْفَرَسِ " وَجَدْنَاهُ بَحْرًا " . أَوْ " إِنَّهُ لَبَحْرٌ " . قَالَ حَمَّادٌ وَحَدَّثَنِي ثَابِتٌ أَوْ غَيْرُهُ قَالَ كَانَ فَرَسًا لأَبِي طَلْحَةَ يُبَطَّأُ فَمَا سُبِقَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ .
صحيح · Al-Albaniصحيح · Muhammad Fouad Abd al-Baqiصحيح · Shuaib Al ArnautSahih - Agreed Upon · Zubair Ali Zai
سنن ابن ماجه › كتاب الجهاد › الحديث 2772
الترجمة الإنجليزية
It was narrated from Hammad bin Zaid from Thabit, that the Prophet (ﷺ) was mentioned before Anas bin Malik and he said:“He was the best of people, the most generous of people, the most courageous of people. The people of Al-Madinah became alarmed one night, and he was the first of them to investigate the noise and din. He was riding a horse belonging to Abu Talhah, bareback, with no saddle. His sword was hanging from his neck and he was saying: ‘O people, do not be afraid,’ sending them back to their houses. Then he said of the horse, ‘We found it like a sea,’ or, ‘It is a sea.’”
الترجمة الأردية
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: آپ سب سے زیادہ خوبصورت، سخی اور بہادر تھے، ایک رات مدینہ والے گھبرا اٹھے، اور سب لوگ آواز کی جانب نکل پڑے تو راستے ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہو گئی، آپ ان سے پہلے اکیلے ہی آواز کی طرف چل پڑے تھے ۱؎، اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ننگی پیٹھ اور بغیر زین والے گھوڑے پر سوار تھے، اور اپنی گردن میں تلوار ٹکائے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: لوگو! ڈر کی کوئی بات نہیں ہے ، یہ کہہ کر آپ لوگوں کو واپس لوٹا رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑے کے متعلق فرمایا: ہم نے اسے سمندر پایا، یا واقعی یہ تو سمندر ہے ۔ حماد کہتے ہیں: مجھ سے ثابت نے یا کسی اور نے بیان کیا کہ وہ گھوڑا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا تھا، جو سست رفتار تھا لیکن اس دن کے بعد سے وہ کبھی کسی گھوڑے سے پیچھے نہیں رہا ۲؎۔