العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن ابن ماجه / المقدمة (كتاب السنة) / الحديث 184

سنن ابن ماجه

الحديث 184 — المقدمة (كتاب السنة)

الكتاب 0 · The Book of the Sunnah

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ الْعَبَّادَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ الرَّقَاشِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ بَيْنَا أَهْلُ الْجَنَّةِ فِي نَعِيمِهِمْ إِذْ سَطَعَ لَهُمْ نُورٌ فَرَفَعُوا رُءُوسَهُمْ فَإِذَا الرَّبُّ قَدْ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِهِمْ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ‏.‏ قَالَ وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ ‏{سَلاَمٌ قَوْلاً مِنْ رَبٍّ رَحِيمٍ}‏ قَالَ فَيَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهِ فَلاَ يَلْتَفِتُونَ إِلَى شَىْءٍ مِنَ النَّعِيمِ مَا دَامُوا يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حَتَّى يَحْتَجِبَ عَنْهُمْ وَيَبْقَى نُورُهُ وَبَرَكَتُهُ عَلَيْهِمْ فِي دِيَارِهِمْ ‏"‏ ‏.‏
ضعيف · Al-Albaniضعيف · Muhammad Fouad Abd al-Baqiضعيف · Shuaib Al Arnautضعيف · Zubair Ali Zai

سنن ابن ماجه › المقدمة (كتاب السنة) › الحديث 184

الترجمة الإنجليزية
It was narrated that Jabor bin 'Abdullah said:"The Messenger of Allah said: 'While the people of Paradise are enjoying their blessings, a light will shine upon them, and they will raise their heads, and they will see their Lord looking upon them from above. He will say: "Peace be upon you, O people of Paradise." This is what Allah says in the Verse: "Salam (peace be upon you) - a Word from the Lord (Allah), The Most Merciful." He will look at them, and they will look at Him, and they will not pay any attention to the delights (of Paradise) so long as they look at Him, until He will screen Himself from them. But His light and blessing will remain with them in their bodies
الترجمة الأردية
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس درمیان کہ اہل جنت اپنی نعمتوں میں ہوں گے، اچانک ان پر ایک نور چمکے گا، وہ اپنے سر اوپر اٹھائیں گے تو دیکھیں گے کہ ان کا رب ان کے اوپر سے جھانک رہا ہے، اور فرما رہا ہے: اے جنت والو! تم پر سلام ہو ، اور یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ کے قول: «سلام قولا من رب رحيم» ( سورة يس: 58 ) کا رحيم ( مہربان ) رب کی طرف سے ( اہل جنت کو ) سلام کہا جائے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک باری تعالیٰ کے دیدار کی نعمت ان کو ملتی رہے گی وہ کسی بھی دوسری نعمت کی طرف مطلقاً نظر نہیں اٹھائیں گے، پھر وہ ان سے چھپ جائے گا، لیکن ان کے گھروں میں ہمیشہ کے لیے اس کا نور اور برکت باقی رہ جائے گی ۱؎۔
‹ السابق184 / 266التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا