العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن أبي داود / كتاب الأدب / الحديث 5104

سنن أبي داود

الحديث 5104 — كتاب الأدب

الكتاب 43 · General Behavior (Kitab Al-Adab)

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوَانَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، وَغَيْرِهِ، قَالاَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ‏"‏ أَقِلُّوا الْخُرُوجَ بَعْدَ هَدْأَةِ الرِّجْلِ فَإِنَّ لِلَّهِ تَعَالَى دَوَابَّ يَبُثُّهُنَّ فِي الأَرْضِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ابْنُ مَرْوَانَ ‏"‏ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ فَإِنَّ لِلَّهِ خَلْقًا ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ ذَكَرَ نُبَاحَ الْكَلْبِ وَالْحَمِيرَ نَحْوَهُ وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ قَالَ ابْنُ الْهَادِ وَحَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ الْحَاجِبُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ ‏.‏
صحيح · Al-Albaniصحيح · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamidضعيف · Zubair Ali Zai

سنن أبي داود › كتاب الأدب › الحديث 5104

الترجمة الإنجليزية
Narrated Ali ibn Umar ibn Husayn ibn Ali: The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Do not go out much when there are few people about , for Allah the Exalted scatters abroad of His beasts in that hour (according to Ibn Marwan's version). Ibn Marwan's version has: For Allah has creatures. He then mentioned the barking of dogs and braying of asses in a similar manner. He added in his version: Ibn al-Had said: Shurahbil ibn al-Hajib told me on the authority of Jabir ibn Abdullah from the Messenger of Allah (ﷺ) similar to it
الترجمة الأردية
علی بن عمر بن حسین بن علی اور ان کے علاوہ ایک اور شخص سے روایت ہے، وہ دونوں (مرسلاً) کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ( رات میں ) آمدورفت بند ہو جانے ( اور سناٹا چھا جانے ) کے بعد گھر سے کم نکلا کرو، کیونکہ اللہ کے کچھ چوپائے ہیں جنہیں اللہ چھوڑ دیتا ہے، ( وہ رات میں آزاد پھرتے ہیں اور نقصان پہنچا سکتے ہیں ) ( ابن مروان کی روایت میں «في تلك الساعة» کے الفاظ ہیں اور اس میں «فإن لله تعالى دواب» کے بجائے «فإن لله خلقا» ہے ) ، پھر راوی نے کتے کے بھونکنے اور گدھے کے رینکنے کا اسی طرح ذکر کیا ہے، اور اپنی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ ابن الہاد کہتے ہیں: مجھ سے شرحبیل بن حاجب نے بیان کیا ہے انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اور جابر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کیا ہے۔
‹ السابق332 / 502التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا