الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن أبي داود / كتاب الأدب / الحديث 4997
سنن أبي داود
الحديث 4997 — كتاب الأدب
الكتاب 43 · General Behavior (Kitab Al-Adab)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي جَارَةً - تَعْنِي ضَرَّةً - هَلْ عَلَىَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ لَهَا بِمَا لَمْ يُعْطِ زَوْجِي قَالَ " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ كَلاَبِسِ ثَوْبَىْ زُورٍ " .
صحيح · Al-Albaniصحيح · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih Bukhari (5219) Sahih Muslim (2130) · Zubair Ali Zai
سنن أبي داود › كتاب الأدب › الحديث 4997
الترجمة الإنجليزية
Asma’, daughter of Abu Bakr, told of a woman who said :Messenger of Allah! I have a fellow-wife; will it be wrong for me to boast of receiving from my husband what he does not give me? He replied: the one who boasts of receiving what he has not been given is like him who has put on two garments of falsehood
الترجمة الأردية
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے کہا: اللہ کے رسول! میری ایک پڑوسن یعنی سوکن ہے، تو کیا مجھ پر گناہ ہو گا اگر میں اسے جلانے کے لیے کہوں کہ میرے شوہر نے مجھے یہ یہ چیزیں دی ہیں جو اس نے نہیں دی ہیں، آپ نے فرمایا: جلانے کے لیے ایسی چیزوں کا ذکر کرنے والا جو اسے نہیں دی گئیں اسی طرح ہے جیسے کسی نے جھوٹ کے دو لبادے پہن لیے ہوں ۔