العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن أبي داود / كتاب السنة / الحديث 4600

سنن أبي داود

الحديث 4600 — كتاب السنة

الكتاب 42 · Model Behavior of the Prophet (Kitab Al-Sunnah)

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، - وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ - قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، - وَذَكَرَ ابْنُ السَّرْحِ قِصَّةَ تَخَلُّفِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ - قَالَ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلاَمِنَا أَيُّهَا الثَّلاَثَةُ حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَىَّ تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَىَّ السَّلاَمَ ‏.‏ ثُمَّ سَاقَ خَبَرَ تَنْزِيلِ تَوْبَتِهِ ‏.‏
صحيح · Al-Albaniصحيح · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamidصحيح · Shuaib Al ArnautSahih Bukhari (4676) Sahih Muslim (2769) · Zubair Ali Zai

سنن أبي داود › كتاب السنة › الحديث 4600

الترجمة الإنجليزية
‘Abd Allah b. Ka`b b. Malik who used to lead his father from among his sons when he became blind, said:I heard Ka`b b. Malik - the transmitter Ibn al-Sarh then narrated the story of his remaining behind from the Prophet (ﷺ) during the campaign of Tabuk - say: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the Muslims to speak to any of us three. When (in this state) abundant time passed on me, I ascended the wall of the garden of Abu Qatadah who was my cousin. I saluted him, but, I swear by Allah, he did not return salute to me. He then narrated the story of the revelation of the Qur’anic verses relating to his repentance
الترجمة الأردية
عبداللہ بن کعب سے روایت ہے ( جب کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں عبداللہ آپ کے قائد تھے ) وہ کہتے ہیں: میں نے کعب بن مالک سے سنا ( ابن السرح ان کے غزوہ تبوک میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ جانے کا واقعہ ذکر کر کے کہتے ہیں کہ کعب نے کہا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں سے گفتگو کرنے سے منع فرما دیا یہاں تک کہ جب لمبا عرصہ ہو گیا تو میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار کود کر ان کے پاس گیا، وہ میرے چچا زاد بھائی تھے، میں نے انہیں سلام کیا تو قسم اللہ کی! انہوں نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر راوی نے ان کی توبہ کے نازل ہونے کا قصہ بیان کیا ۱؎۔
‹ السابق5 / 177التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا