الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن أبي داود / كتاب الفرائض / الحديث 2905
سنن أبي داود
الحديث 2905 — كتاب الفرائض
الكتاب 19 · Shares of Inheritance (Kitab Al-Fara'id)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، مَاتَ وَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا إِلاَّ غُلاَمًا لَهُ كَانَ أَعْتَقَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ لَهُ أَحَدٌ " . قَالُوا لاَ إِلاَّ غُلاَمًا لَهُ كَانَ أَعْتَقَهُ . فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِيرَاثَهُ لَهُ .
ضعيف · Al-Albaniضعيف · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamidضعيف · Shuaib Al ArnautIsnaad Hasan · Zubair Ali Zai
سنن أبي داود › كتاب الفرائض › الحديث 2905
الترجمة الإنجليزية
Narrated Abdullah ibn Abbas: A man died leaving no heir but a slave whom he had emancipated. The Messenger of Allah (ﷺ) asked: Has he any heir? They replied: No, except a slave whom he had emancipated. The Messenger of Allah (ﷺ) assigned his estate to him (the emancipated slave)
الترجمة الأردية
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مر گیا اور ایک غلام کے سوا جسے وہ آزاد کر چکا تھا کوئی وارث نہ چھوڑا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا کوئی اس کا وارث ہے؟ لوگوں نے کہا: کوئی نہیں سوائے ایک غلام کے جس کو اس نے آزاد کر دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو اس کا ترکہ دلا دیا۔