العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن أبي داود / كتاب الفرائض / الحديث 2887

سنن أبي داود

الحديث 2887 — كتاب الفرائض

الكتاب 19 · Shares of Inheritance (Kitab Al-Fara'id)

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، - يَعْنِي الدَّسْتَوَائِيَّ - عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ اشْتَكَيْتُ وَعِنْدِي سَبْعُ أَخَوَاتٍ فَدَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَنَفَخَ فِي وَجْهِي فَأَفَقْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلاَ أُوصِي لأَخَوَاتِي بِالثُّلُثِ قَالَ ‏"‏ أَحْسِنْ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ الشَّطْرَ قَالَ ‏"‏ أَحْسِنْ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ خَرَجَ وَتَرَكَنِي فَقَالَ ‏"‏ يَا جَابِرُ لاَ أُرَاكَ مَيِّتًا مِنْ وَجَعِكَ هَذَا وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ فَبَيَّنَ الَّذِي لأَخَوَاتِكَ فَجَعَلَ لَهُنَّ الثُّلُثَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَكَانَ جَابِرٌ يَقُولُ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فِيَّ ‏{‏ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَةِ ‏}‏ ‏.‏
صحيح · Al-Albaniصحيح · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamidصحيح · Zubair Ali Zai

سنن أبي داود › كتاب الفرائض › الحديث 2887

الترجمة الإنجليزية
Narrated Jabir ibn Abdullah: I fell ill, and I had seven sisters. The Messenger of Allah (ﷺ) came to me and blew on my face. So I became conscious. I said: Messenger of Allah, may I not bequeath one-third of my property to my sisters? He replied: Do good. I asked: Half? He replied: Do good. He then went out and left me, and said: I do not think, Jabir, you will die of this disease. Allah has revealed (verses) and described the share of your sisters. He appointed two-thirds for them. Jabir used to say: This verse was revealed about me: "They ask thee for a legal decision. Say: Allah directs (thus) about those who leave no descendants or ascendants as heirs
الترجمة الأردية
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں بیمار ہوا اور میرے پاس سات بہنیں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میرے چہرے پر پھونک ماری تو مجھے ہوش آ گیا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی بہنوں کے لیے ثلث مال کی وصیت نہ کر دوں؟ آپ نے فرمایا: نیکی کرو ، میں نے کہا آدھے مال کی وصیت کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیکی کرو ، پھر آپ مجھے چھوڑ کر چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جابر! میرا خیال ہے تم اس بیماری سے نہیں مرو گے، اور اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام اتارا ہے اور تمہاری بہنوں کا حصہ بیان کر دیا ہے، ان کے لیے دو ثلث مقرر فرمایا ہے ۔ جابر کہا کرتے تھے کہ یہ آیت «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» میرے ہی متعلق نازل ہوئی ہے۔
‹ السابق3 / 43التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا