العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
العربية

الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن أبي داود / كتاب الجهاد / الحديث 2541

سنن أبي داود

الحديث 2541 — كتاب الجهاد

الكتاب 15 · Jihad (Kitab Al-Jihad)

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو مَرْوَانَ، وَابْنُ الْمُصَفَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنِ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، يَرُدُّ إِلَى مَكْحُولٍ إِلَى مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏:‏ ‏"‏ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ نَفْسِهِ صَادِقًا ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ فَإِنَّ لَهُ أَجْرَ شَهِيدٍ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ ابْنُ الْمُصَفَّى مِنْ هُنَا ‏:‏ ‏"‏ وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ، لَوْنُهَا لَوْنُ الزَّعْفَرَانِ، وَرِيحُهَا رِيحُ الْمِسْكِ، وَمَنْ خَرَجَ بِهِ خُرَاجٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ عَلَيْهِ طَابَعَ الشُّهَدَاءِ ‏"‏ ‏.‏
صحيح · Al-Albaniصحيح · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul Hamidصحيح · Zubair Ali Zai

سنن أبي داود › كتاب الجهاد › الحديث 2541

الترجمة الإنجليزية
Narrated Mu'adh ibn Jabal: The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone fights in Allah's path as long as the time between two milkings of a she-camel, Paradise will be assured for him. If anyone sincerely asks Allah for being killed and then dies or is killed, there will be a reward of a martyr for him. Ibn al-Musaffa added from here: If anyone is wounded in Allah's path, or suffers a misfortune, it will come on the Day of resurrection as copious as possible, its colour saffron, and its odour musk; and if anyone suffers from ulcers while in Allah's path, he will have on him the stamp of the martyrs
الترجمة الأردية
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کے راستہ میں اونٹنی دوہنے والے کے دو بار چھاتی پکڑنے کے درمیان کے مختصر عرصہ کے بقدر بھی جہاد کیا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جس شخص نے اللہ سے سچے دل کے ساتھ شہادت مانگی پھر اس کا انتقال ہو گیا، یا قتل کر دیا گیا تو اس کے لیے شہید کا اجر ہے، اور جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوا یا کوئی چوٹ پہنچایا ۱؎ گیا تو وہ زخم قیامت کے دن اس سے زیادہ کامل شکل میں ہو کر آئے گا جتنا وہ تھا، اس کا رنگ زعفران کا اور بو مشک کی ہو گی اور جسے اللہ کے راستے میں پھنسیاں ( دانے ) نکل آئیں تو اس پر شہداء کی مہر لگی ہو گی ۔
‹ السابق65 / 311التالي ›

اقرأ الكتاب كاملًا