الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن أبي داود / كتاب الصوم / الحديث 2320
سنن أبي داود
الحديث 2320 — كتاب الصوم
الكتاب 14 · Fasting (Kitab Al-Siyam)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ ثَلاَثِينَ " . قَالَ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا كَانَ شَعْبَانُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ نُظِرَ لَهُ فَإِنْ رُؤِيَ فَذَاكَ وَإِنْ لَمْ يُرَ وَلَمْ يَحُلْ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ وَلاَ قَتَرَةٌ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرَةٌ أَصْبَحَ صَائِمًا . قَالَ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفْطِرُ مَعَ النَّاسِ وَلاَ يَأْخُذُ بِهَذَا الْحِسَابِ .
صحيح · Al-Albaniصحيح · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih Muslim (1080) · Zubair Ali Zai
سنن أبي داود › كتاب الصوم › الحديث 2320
الترجمة الإنجليزية
Ibn ‘Umar reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “The month consists of twenty nine days, but do not fast till you sight it (the moon) and do not break your fast till you sight it. If the weather is cloudy, calculate it thirty days. When the twenty-ninth of Sha’ban came, Ibn ‘Umar would send someone (who tried) to sight the moon for him. If it was sighted then well and good, in case it was not sighted and there was no cloud and dust before him (on the horizon) he would not keep fast the next day. If there appeared (on the horizon) before him cloud or dust, he would fast the following day. Ibn ‘Umar would end his fasting alone with the people and did not follow this calculation.”
الترجمة الأردية
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مہینہ انتیس دن کا ( بھی ) ہوتا ہے لہٰذا چاند دیکھے بغیر نہ روزہ رکھو، اور نہ ہی دیکھے بغیر روزے چھوڑو، اگر آسمان پر بادل ہوں تو تیس دن پورے کرو ۔ راوی کا بیان ہے کہ جب شعبان کی انتیس تاریخ ہوتی تو ابن عمر رضی اللہ عنہما چاند دیکھتے اگر نظر آ جاتا تو ٹھیک اور اگر نظر نہ آتا اور بادل اور کوئی سیاہ ٹکڑا اس کے دیکھنے کی جگہ میں حائل نہ ہوتا تو دوسرے دن روزہ نہ رکھتے اور اگر بادل یا کوئی سیاہ ٹکڑا دیکھنے کی جگہ میں حائل ہو جاتا تو صائم ہو کر صبح کرتے۔ راوی کا یہ بھی بیان ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما لوگوں کے ساتھ ہی روزے رکھنا چھوڑتے تھے، اور اپنے حساب کا خیال نہیں کرتے تھے۔