Inicio / Biblioteca del Hadiz / Jami' al-Tirmidhi / Libro 13: The Book on Divorce and Li'an / Hadiz 1179
Jami' al-Tirmidhi
Hadiz 1179 — Libro 13: The Book on Divorce and Li'an
كتاب الطلاق واللعان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاخْتَرْنَاهُ أَفَكَانَ طَلاَقًا؟ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، بِمِثْلِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الْخِيَارِ فَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُمَا قَالاَ إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ . وَرُوِيَ عَنْهُمَا أَنَّهُمَا قَالاَ أَيْضًا وَاحِدَةٌ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلاَ شَىْءَ . وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ قَالَ إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَوَاحِدَةٌ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ . وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ إِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَوَاحِدَةٌ وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَثَلاَثٌ . وَذَهَبَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفِقْهِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَنْ بَعْدَهُمْ فِي هَذَا الْبَابِ إِلَى قَوْلِ عُمَرَ وَعَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ وَأَمَّا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فَذَهَبَ إِلَى قَوْلِ عَلِيٍّ رضى الله عنه .
Sahih · Ahmad Muhammad ShakirSahih · Al-AlbaniHasan Sahih · Bashar Awad MaaroufSahih - Agreed Upon · Zubair Ali Zai
Jami' al-Tirmidhi › Libro 13: The Book on Divorce and Li'an › Hadiz 1179
Traducción al inglés
Aishah said:"The Messenger of Allah gave us the choice, so we chose him. So was that a divorce?
Traducción al urdu
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا ( چاہیں تو ہم آپ کے نکاح میں رہیں اور چاہیں تو نہ رہیں ) ہم نے آپ کو اختیار کیا۔ کیا یہ طلاق مانی گئی تھی؟ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ( ساتھ رہنے اور نہ رہنے کے ) اختیار دینے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ ۳- عمر اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کا کہنا ہے کہ اگر عورت نے خود کو اختیار کر لیا تو طلاق بائنہ ہو گی۔ اور انہی دونوں کا یہ قول بھی ہے کہ ایک طلاق ہو گی اور اسے رجعت کا اختیار ہو گا۔ اور اگر اس نے اپنے شوہر ہی کو اختیار کیا تو اس پر کچھ نہ ہو گا یعنی کوئی طلاق واقع نہ ہو گی ۲؎، ۴- اور علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر اس نے خود کو اختیار کیا تو طلاق بائن ہو گی اور اگر اس نے اپنے شوہر کو اختیار کیا تو ایک ہو گی لیکن رجعت کا اختیار ہو گا، ۵- زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ اگر اس نے اپنے شوہر کو اختیار کیا تو ایک ہو گی اور اگر خود کو اختیار کیا تو تین ہوں گی، ۶- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم و فقہ اس باب میں عمر اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کے قول کی طرف گئے ہیں اور یہی ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے، ۷- البتہ احمد بن حنبل کا قول وہی ہے جو علی رضی الله عنہ کا ہے۔