العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
Español

Inicio / Biblioteca del Hadiz / Sunan an-Nasa'i / Libro 10: The Book of Leading the Prayer (Al-Imamah) / Hadiz 862

Sunan an-Nasa'i

Hadiz 862 — Libro 10: The Book of Leading the Prayer (Al-Imamah)

كتاب الإمامة

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مَنْبُوذٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ فَيَتَحَدَّثُ عِنْدَهُمْ حَتَّى يَنْحَدِرَ لِلْمَغْرِبِ ‏.‏ قَالَ أَبُو رَافِعٍ فَبَيْنَمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُسْرِعُ إِلَى الْمَغْرِبِ مَرَرْنَا بِالْبَقِيعِ فَقَالَ ‏"‏ أُفٍّ لَكَ أُفٍّ لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَكَبُرَ ذَلِكَ فِي ذَرْعِي فَاسْتَأْخَرْتُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُنِي فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكَ امْشِ ‏"‏ ‏.‏ فَقُلْتُ أَحْدَثْتُ حَدَثًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ أَفَّفْتَ بِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ وَلَكِنْ هَذَا فُلاَنٌ بَعَثْتُهُ سَاعِيًا عَلَى بَنِي فُلاَنٍ فَغَلَّ نَمِرَةً فَدُرِّعَ الآنَ مِثْلَهَا مِنْ نَارٍ ‏"‏ ‏.‏
Hasan Isnaad · Abu GhuddahHasan Isnaad · Al-AlbaniHasan · Zubair Ali Zai

Sunan an-Nasa'i › Libro 10: The Book of Leading the Prayer (Al-Imamah) › Hadiz 862

Traducción al inglés
It was narrated that Abu Rafi said:"After the Messenger of Allah (ﷺ) had prayed Asr, he would go to Banu 'Abdul-Ashhal to speak to them, until the time for Maghrib came." Abu Rafi said: "While the Prophet (ﷺ) was hastening to pray Maghrib, we passed by and he said: 'Fie on you, fie on you!' That upset me so I slowed down because I thought hat he meant me. He said: 'What is the matter with you? Keep up!' I said: 'Is there something wrong?' He said: 'Why are you asking that? I said: 'Because you said: "Fie on you" to me.' He said: 'No, that was so-and-so whom I had sent to collect Zakat from the tribe of so-and-so, and he stole a Namirah and now he is clothed with something similar made of Fire
Traducción al urdu
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھ چکتے تو بنی عبدالاشہل کے لوگوں میں جاتے اور ان سے گفتگو کرتے یہاں تک کہ مغرب کی نماز کے لیے اترتے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز کے لیے تیزی سے جا رہے تھے کہ ہم بقیع سے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس ہے تم پر، افسوس ہے تم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات مجھے گراں لگی، اور یہ سمجھ کر کہ آپ مجھ سے مخاطب ہیں، میں پیچھے ہٹ گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ چلو ، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا کوئی بات ہو گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: وہ کیا؟ ، تو میں نے عرض کیا: آپ نے مجھ پر اف کہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! ( تم پر نہیں ) البتہ اس شخص پر ( اظہار اف ) کیا ہے جسے میں نے فلاں قبیلے میں صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا تھا، تو اس نے ایک دھاری دار چادر چرا لی ہے ؛ چنانچہ اب اسے ویسی ہی آگ کی چادر پہنا دی گئی ہے ۔
‹ Anterior86 / 99Siguiente ›

Leer el libro completo