العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
Español

Inicio / Biblioteca del Hadiz / Muwatta Malik / Libro 31: Business Transactions / Hadiz 1305

Muwatta Malik

Hadiz 1305 — Libro 31: Business Transactions

كتاب البيوع

حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الرِّجَالِ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أُمِّهِ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ، ابْتَاعَ رَجُلٌ ثَمَرَ حَائِطٍ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَالَجَهُ وَقَامَ فِيهِ حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ النُّقْصَانُ فَسَأَلَ رَبَّ الْحَائِطِ أَنْ يَضَعَ لَهُ أَوْ أَنْ يُقِيلَهُ فَحَلَفَ أَنْ لاَ يَفْعَلَ فَذَهَبَتْ أُمُّ الْمُشْتَرِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَأَلَّى أَنْ لاَ يَفْعَلَ خَيْرًا ‏"‏ ‏.‏ فَسَمِعَ بِذَلِكَ رَبُّ الْحَائِطِ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ لَهُ ‏.‏
Sahih Lighairihi · Salim al-Hilali

Muwatta Malik › Libro 31: Business Transactions › Hadiz 1305

Traducción al inglés
Yahya related to me from Malik that Abu'r-Rijal Muhammad ibn Abd ar-Rahman heard his mother, Amra bint Abd ar-Rahman say, "A man bought the fruit of an enclosed orchard in the time of the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and he tended it while staying on the land. It became clear to him that there was going to be some loss. He asked the owner of the orchard to reduce the price for him or to revoke the sale, but the owner made an oath not to do so. The mother of the buyer went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and told him about it. The Messengerof Allah, may Allah bless him and grant him peace, said, 'By this oath, he has sworn not to do good.' The owner of the orchard heard about it and went to the Messenger of Allah, may Allah bless him and grant him peace, and said, 'Messenger of Allah, the choice is his
Traducción al urdu
عمرہ بنت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے باغ کے پھل خریدے اور اس کی درستی میں مصروف ہوا مگر ایسی آفت آئی جس سے نقصان معلوم ہوا تو باغ کے مالک سے کہا یا تو پھلوں کی قیمت کچھ کم کر دو یا اس بیع کو فسخ کر ڈالو اس نے قسم کھالی میں ہرگز نہ کروں گا تب خریداری کر ڈالو اس نے قسم کھالی میں ہرگز نہ کروں گا تب خریدار کی ماں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آن کر یہ سب قصہ بیان کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا قسم کھالی اس نے کہ میں یہ بہتری کا کام نہ کروں گا جب مالک باغ کو یہ خبر پہنچی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا خریدار کہے وہ مجھ کو منظور ہے ۔ عمر بن عبدالعزیز نے حکم کیا مشتری (خریدنے والا) کو نقصان دلانے کا جب کھیت یا میوے کو آفت پہنچے ۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہی حکم ہے لیکن یہ ضرور ہے کہ اس آفت سے تہائی مال یا زیادہ نقصان ہوا ہو اگر اس سے کم نقصان ہوگا اس کا شمار نہیں ۔
‹ Anterior16 / 95Siguiente ›

Leer el libro completo