Inicio / Biblioteca del Hadiz / Sunan Ibn Majah / Libro 24: The Chapters on Jihad / Hadiz 2801
Sunan Ibn Majah
Hadiz 2801 — Libro 24: The Chapters on Jihad
كتاب الجهاد
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، فِي قَوْلِهِ {وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ} قَالَ أَمَا إِنَّا سَأَلْنَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ " أَرْوَاحُهُمْ كَطَيْرٍ خُضْرٍ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شَاءَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَى قَنَادِيلَ مُعَلَّقَةٍ بِالْعَرْشِ فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذِ اطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلاَعَةً فَيَقُولُ سَلُونِي مَا شِئْتُمْ . قَالُوا رَبَّنَا وَمَاذَا نَسْأَلُكَ وَنَحْنُ نَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شِئْنَا فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لاَ يُتْرَكُونَ مِنْ أَنْ يَسْأَلُوا قَالُوا نَسْأَلُكَ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا إِلَى الدُّنْيَا حَتَّى نُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ . فَلَمَّا رَأَى أَنَّهُمْ لاَ يَسْأَلُونَ إِلاَّ ذَلِكَ تُرِكُوا " .
Sahih · Al-AlbaniSahih · Muhammad Fouad Abd al-BaqiSahih · Shuaib Al ArnautSahih Muslim · Zubair Ali Zai
Sunan Ibn Majah › Libro 24: The Chapters on Jihad › Hadiz 2801
Traducción al inglés
It was narrated from ‘Abdullah concerning the Verse:“Think not of those as dead who are killed in the way of Allah. Nay, they are alive, with their Lord, and they have provision,”[3:169] that he said: “We asked about that, and (the Prophet (ﷺ)) said: ‘Their souls are like green birds that fly wherever they wish in Paradise, then they come back to lamps suspended from the Throne. While they were like that, your Lord looked at them and said, “Ask me for whatever you want.” They said: “O Lord, what should we ask You for when we can fly wherever we wish in Paradise?” When they saw that they would not be left alone until they had asked for something, they said: “We ask You to return our souls to our bodies in the world so that we may fight for Your sake (again).” When He saw that they would not ask for anything but that, they were left alone.’”
Traducción al urdu
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون» کے بارے میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شہداء کی روحیں سبز چڑیوں کی شکل میں جنت میں جہاں چاہیں چلتی پھرتی ہیں، پھر شام کو عرش سے لٹکی ہوئی قندیلوں میں بسیرا کرتی ہیں، ایک بار کیا ہوا کہ روحیں اسی حال میں تھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف جھانکا پھر فرمانے لگا: تمہیں جو چاہیئے مانگو، روحوں نے کہا: ہم جنت میں جہاں چاہتی ہیں چلتی پھرتی ہیں، اس سے بڑھ کر کیا مانگیں؟ جب انہوں نے دیکھا کہ بغیر مانگے خلاصی نہیں تو کہنے لگیں: ہمارا سوال یہ ہے کہ تو ہماری روحوں کو دنیاوی جسموں میں لوٹا دے کہ ہم پھر تیرے راستے میں قتل کئے جائیں، اللہ تعالیٰ نے جب دیکھا کہ وہ اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگ رہی ہیں تو چھوڑ دیا ۱؎۔