العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
Español

Inicio / Biblioteca del Hadiz / Sunan Abu Dawud / Libro 2: Prayer (Kitab Al-Salat) / Hadiz 557

Sunan Abu Dawud

Hadiz 557 — Libro 2: Prayer (Kitab Al-Salat)

كتاب الصلاة

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، أَنَّ أَبَا عُثْمَانَ، حَدَّثَهُ عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ كَانَ رَجُلٌ لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مِمَّنْ يُصَلِّي الْقِبْلَةَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَبْعَدَ مَنْزِلاً مِنَ الْمَسْجِدِ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ وَكَانَ لاَ تُخْطِئُهُ صَلاَةٌ فِي الْمَسْجِدِ فَقُلْتُ لَوِ اشْتَرَيْتَ حِمَارًا تَرْكَبُهُ فِي الرَّمْضَاءِ وَالظُّلْمَةِ ‏.‏ فَقَالَ مَا أُحِبُّ أَنَّ مَنْزِلِي إِلَى جَنْبِ الْمَسْجِدِ فَنُمِيَ الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ ذَلِكَ فَقَالَ أَرَدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يُكْتَبَ لِي إِقْبَالِي إِلَى الْمَسْجِدِ وَرُجُوعِي إِلَى أَهْلِي إِذَا رَجَعْتُ ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ أَعْطَاكَ اللَّهُ ذَلِكَ كُلَّهُ أَنْطَاكَ اللَّهُ جَلَّ وَعَزَّ مَا احْتَسَبْتَ كُلَّهُ أَجْمَعَ ‏"‏ ‏.‏
Sahih · Al-AlbaniSahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih · Shuaib Al ArnautSahih Muslim (663) · Zubair Ali Zai

Sunan Abu Dawud › Libro 2: Prayer (Kitab Al-Salat) › Hadiz 557

Traducción al inglés
Ubayy b. Ka’b said:There was a certain person, out of all people of Medina, who used to pray in the mosque. I do not know that any one of them lived at a farther distance than that man. Still he never missed the prayer in congregation in the mosque. I said: it would be better if you buy a donkey and ride it in heat and darkness. He said: I do not like that my house be by the side of the mosque. The discourse reached the Messenger of Allah (ﷺ). He said him about it. He said: I did it so that my walking to the mosque and return to my home when I return be recorded. He said: Allah has granted all this to you; Allah has granted all that you reckoned
Traducción al urdu
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں اہل مدینہ میں نمازیوں میں ایک صاحب تھے، میری نظر میں کسی کا مکان مسجد سے ان کے مکان سے زیادہ دور نہیں تھا، اس کے باوجود ان کی کوئی نماز جماعت سے ناغہ نہیں ہوتی تھی، میں نے ان سے کہا: اگر آپ ایک گدھا خرید لیتے اور گرمی اور تاریکی میں اس پر سوار ہو کر ( مسجد ) آیا کرتے ( تو زیادہ اچھا ہوتا ) تو انہوں نے کہا: میں نہیں چاہتا کہ میرا گھر مسجد کے بغل میں ہو، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے ان سے اس کے متعلق پوچھا، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میری غرض یہ تھی کہ مجھے مسجد آنے کا اور پھر لوٹ کر اپنے گھر والوں کے پاس جانے کا ثواب ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے تمہیں وہ سب عنایت فرما دیا، اور جو کچھ تم نے چاہا، اللہ نے وہ سب تمہیں دے دیا ۔
‹ Anterior167 / 770Siguiente ›

Leer el libro completo