العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
Español

Inicio / Biblioteca del Hadiz / Sunan Abu Dawud / Libro 2: Prayer (Kitab Al-Salat) / Hadiz 1020

Sunan Abu Dawud

Hadiz 1020 — Libro 2: Prayer (Kitab Al-Salat)

كتاب الصلاة

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ إِبْرَاهِيمُ فَلاَ أَدْرِي زَادَ أَمْ نَقَصَ - فَلَمَّا سَلَّمَ قِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَمَا ذَاكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا صَلَّيْتَ كَذَا وَكَذَا ‏.‏ فَثَنَى رِجْلَهُ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَلَمَّا انْفَتَلَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِي الصَّلاَةِ شَىْءٌ أَنْبَأْتُكُمْ بِهِ وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِي ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ‏"‏ إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلاَتِهِ فَلْيَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ لْيُسَلِّمْ ثُمَّ لْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏
Sahih · Al-AlbaniSahih · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidSahih · Shuaib Al ArnautSahih Bukhari (401) Sahih Muslim (572) · Zubair Ali Zai

Sunan Abu Dawud › Libro 2: Prayer (Kitab Al-Salat) › Hadiz 1020

Traducción al inglés
Narrated Abdullah ibn Mas'ud: The Messenger of Allah (ﷺ) offered prayer. The version of the narrator Ibrahim goes: I do not know whether he increased or decreased (the rak'ahs of prayer). When he gave the salutation, he was asked: Has something new happened in the prayer, Messenger of Allah? He said: What is it? They said: You prayed so many and so many (rak'ahs). He then relented his foot and faced the Qiblah and made two prostrations. He then gave the salutation. When he turned away (finished the prayer), he turned his face to us and said: Had anything new happened in prayer, I would have informed you. I am only a human being and I forget just as you do; so when I forget, remind me, and when any of you is in doubt about his prayer he should aim at what is correct, and complete his prayer in that respect, then give the salutation and afterwards made two prostrations
Traducción al urdu
علقمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی ( ابراہیم کی روایت میں ہے: تو میں نہیں جان سکا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں زیادتی کی یا کمی ) ، پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی چیز ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کیا؟ ، لوگوں نے کہا: آپ نے اتنی اتنی رکعتیں پڑھی ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا پیر موڑا اور قبلہ رخ ہوئے، پھر لوگوں کے ساتھ دو سجدے کئے پھر سلام پھیرا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر نماز میں کوئی نئی بات ہوئی ہوتی تو میں تم کو اس سے باخبر کرتا، لیکن انسان ہی تو ہوں، میں بھی بھول جاتا ہوں جیسے تم لوگ بھول جاتے ہو، لہٰذا جب میں بھول جایا کروں تو تم لوگ مجھے یاد دلا دیا کرو ، اور فرمایا: جب تم میں سے کسی کو نماز میں شک پیدا ہو جائے تو سوچے کہ ٹھیک کیا ہے، پھر اسی حساب سے نماز پوری کرے، اس کے بعد سلام پھیرے پھر ( سہو کے ) دو سجدے کرے ۔
‹ Anterior630 / 770Siguiente ›

Leer el libro completo