العربية English Français Español 中文 Deutsch Русский اردو
Español

Inicio / Biblioteca del Hadiz / Sunan Abu Dawud / Libro 14: Fasting (Kitab Al-Siyam) / Hadiz 2413

Sunan Abu Dawud

Hadiz 2413 — Libro 14: Fasting (Kitab Al-Siyam)

كتاب الصوم

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، - يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ - عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ، أَنَّ دِحْيَةَ بْنَ خَلِيفَةَ، خَرَجَ مِنْ قَرْيَةٍ مِنْ دِمَشْقَ مَرَّةً إِلَى قَدْرِ قَرْيَةِ عُقْبَةَ مِنَ الْفُسْطَاطِ وَذَلِكَ ثَلاَثَةُ أَمْيَالٍ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ إِنَّهُ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ نَاسٌ وَكَرِهَ آخَرُونَ أَنْ يُفْطِرُوا فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ قَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنِّي أَرَاهُ إِنَّ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْىِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ ‏.‏ يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ اللَّهُمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ ‏.‏
Daif · Al-AlbaniDaif · Muhammad Muhyi Al-Din Abdul HamidHasan Lighairihi · Shuaib Al ArnautIsnaad Hasan · Zubair Ali Zai

Sunan Abu Dawud › Libro 14: Fasting (Kitab Al-Siyam) › Hadiz 2413

Traducción al inglés
Narrated Dihyah: Mansur al-Kalbi said: Dihyah ibn Khalifah once went out from a village of Damascus at as much distance as it measures between Aqabah and al-Fustat during Ramadan; and that is three miles. He then broke his fast and the people broke their fast along with him. But some of them disliked to break their fast. When he came back to his village, he said: I swear by Allah, today I witnessed a thing of which I could not even think to see. The people detested the way of the Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions. He said this to those who fasted. At this moment he said: O Allah, make me die
Traducción al urdu
منصور کلبی سے روایت ہے کہ دحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ عنہ ایک بار رمضان میں دمشق کی کسی بستی سے اتنی دور نکلے جتنی دور فسطاط سے عقبہ بستی ہے اور وہ تین میل ہے، پھر انہوں نے اور ان کے ساتھ کے کچھ لوگوں نے تو روزہ توڑ دیا لیکن کچھ دوسرے لوگوں نے روزہ توڑنے کو ناپسند کیا، جب وہ اپنی بستی میں لوٹ کر آئے تو کہنے لگے: اللہ کی قسم! آج میں نے ایسا منظر دیکھا جس کا میں نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے طریقے سے اعراض کیا، یہ بات وہ ان لوگوں کے متعلق کہہ رہے تھے، جنہوں نے سفر میں روزہ رکھا تھا، پھر انہوں نے اسی وقت دعا کی: اے اللہ! مجھے اپنی طرف اٹھا لے ( یعنی اس پر آشوب دور میں زندہ رہنے سے موت اچھی ہے ) ۔
‹ Anterior101 / 164Siguiente ›

Leer el libro completo