الرئيسية / مكتبة الحديث / سنن النسائي / كتاب إحسان العشرة إلى النساء / الحديث 3955
سنن النسائي
الحديث 3955 — كتاب إحسان العشرة إلى النساء
الكتاب 36 · The Book of the Kind Treatment of Women
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عِنْدَ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ فَأَرْسَلَتْ أُخْرَى بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ فَضَرَبَتْ يَدَ الرَّسُولِ فَسَقَطَتِ الْقَصْعَةُ فَانْكَسَرَتْ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْكِسْرَتَيْنِ فَضَمَّ إِحْدَاهُمَا إِلَى الأُخْرَى فَجَعَلَ يَجْمَعُ فِيهَا الطَّعَامَ وَيَقُولُ " غَارَتْ أُمُّكُمْ كُلُوا " . فَأَكَلُوا فَأَمْسَكَ حَتَّى جَاءَتْ بِقَصْعَتِهَا الَّتِي فِي بَيْتِهَا فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ إِلَى الرَّسُولِ وَتَرَكَ الْمَكْسُورَةَ فِي بَيْتِ الَّتِي كَسَرَتْهَا .
صحيح · Abu Ghuddahصحيح · Al-AlbaniIsnaad Sahih · Zubair Ali Zai
سنن النسائي › كتاب إحسان العشرة إلى النساء › الحديث 3955
الترجمة الإنجليزية
Anas said:"The Prophet was with one of the Mothers of the Believers when another one sent a wooden bowl in which was some food. She struck the hand of the Prophet and the bowl fell and broke. The Prophet picked up the two pieces and put them together, then he started to gather up the food and said: 'Your mother got jealous; eat.' So they ate. He waited until she brought the wooden bowl that was in her house, then he gave the sound bowl to the messenger and left the broken bowl in the house of the one who had broken it
الترجمة الأردية
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین میں سے ایک کے پاس تھے، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک پیالہ کھانا بھیجا، پہلی بیوی نے ( غصہ سے کھانا لانے والے ) کے ہاتھ پر مارا اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتن کے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے ( کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا ) ، تم لوگ کھانا کھاؤ۔ لوگوں نے کھایا، پھر قاصد کو آپ نے روکے رکھا یہاں تک کہ جن کے گھر میں آپ تھے اپنا پیالہ لائیں تو آپ نے یہ صحیح سالم پیالہ قاصد کو عنایت کر دیا ۱؎ اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس بیوی کے گھر میں رکھ چھوڑا جس نے اسے توڑا تھا۔